کرک میں ایمبولینس پر فتنہ الخوارج کا سفاک حملہ، زخمی اہلکاروں کو زندہ جلا دیا

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں 23 فروری 2026 کو پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے ملک بھر کو سوگوار کر دیا۔ شدت پسند عناصر نے فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں زخمی اہلکار زندہ جل کر شہید ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے کواڈ کاپٹر کے ذریعے فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے اور فائرنگ کے باعث متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ایمبولینسز کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران واپسی پر دہشتگردوں نے دونوں ایمبولینسز پر حملہ کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق ایک ایمبولینس کو روک کر اس پر فائرنگ کی گئی اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی گئی۔ اس ایمبولینس میں موجود زخمی اہلکار زندہ جل گئے۔ دوسری ایمبولینس شدید حملے کے باوجود زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب رہی۔ آگ لگنے سے ایمبولینس کے ڈرائیور احمد حسین اور ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار بھی جھلس گئے، جنہیں فوری طور پر بنوں اور کرک کے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

آگ میں جل کر شہید ہونے والوں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں۔ سپاہی مراد گل اور سپاہی ایان خان کا تعلق ضلع ہنگو سے تھا جبکہ لانس نائیک عادل خان ضلع مانسہرہ کے رہائشی تھے۔ دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان اور حنیف ولد گل زرین شامل ہیں، جن کا تعلق بھی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جانی خیل بنوں : فتنہ الخوارج کی بربریت: ایک اور بے گناہ شہری قتل، لاش سڑک پر پھینک دی

حملہ آوروں نے اس افسوسناک واقعے کی مبینہ ویڈیو بھی بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر جاری کیا، جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا بتایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس بربریت کا مقصد علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا ہے۔

رمضان کے مقدس مہینے میں زخمیوں اور امدادی عملے کو نشانہ بنانا انسانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنگ کے دوران بھی زخمیوں اور غیر مسلح افراد کو نقصان پہنچانا حرام ہے۔ مذہبی اور سماجی حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی بربریت قرار دیا ہے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں وسیع سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ذمہ دار عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

شہدا کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائے گی جبکہ صوبائی اور وفاقی قیادت نے اہل خانہ سے تعزیت اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Scroll to Top