اسلام آباد (کشمیر ڈیجیـٹل)فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کے افسوسناک واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کیلئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 9 رکنی ایکسٹرنل ریویو کمیٹی قائم کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں شعبۂ طب، صحافت اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والی معتبر اور تجربہ کار شخصیات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کی ڈاکٹر فریحہ افراہیم کی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں خ و د ک ش ی، حادث ا تی م و ت یا ق ت ل؟
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمیٹی مکمل آزادی کے ساتھ تحقیقات کرے گی اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
نو رکنی ایکسٹرنل ریویو کمیٹی میں سابق پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ نذیر، پروفیسر ڈاکٹر نورین اکمل، پروفیسر ڈاکٹر شمسہ ہمایوں، پروفیسر شیریں خاور، معروف صحافی اور سابق صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس عثمان بن احمد، سابق سیشن جج افتخار احمد خان، ڈاکٹر زاہد بشیر، پروفیسر ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی اور پروفیسر ڈاکٹر یار محمد شامل ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایس ایچ او کا خاتون اور بچے پرتشدد، علاقے کی فضاء کشیدہ، نیلم پل بند
کمیٹی واقعے سے متعلق تمام دستیاب شواہد، انتظامی امور اور ممکنہ وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ ایکسٹرنل ریویو کمیٹی مکمل چھان بین کے بعد ایک ہفتے کے اندر اپنی حتمی رپورٹ یونیورسٹی انتظامیہ کو پیش کرے گی۔
رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد حقائق سامنے لانا، طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔




