پاکستان کی افغانستان میں 7 ٹھکانوں پر بڑی کاروائی، 12 مزید دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق، کل تعداد 40 تک جا پہنچی

افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگی طیاروں نے افغانستان کے سرحدی علاقے پکتیکا میں بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے ۔

پکتیکا کے علاقہ مرغہ میں واقع بنوسی میں مبینہ فضائی حملے کے نتیجے میں 28 عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں ۔ یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے ، پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی کا علاقہ کوز بھار میں دہشتگردوں کا تربیتی مرکز بھی دھماکوں سے گونج اٹھا۔

افغانستان کے صوبہ پکتیکا، پکتیا، خوست ، ننگرہار سمیت پاکستان کی  7 ٹھکانوں پر بڑی کارروائی ،دہشت گردوں کے مراکز تباہ، 12 مزید دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق ،کل تعداد 40 تک جا پہنچی- اہم ترین کمانڈرکے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق افغان سرحد کے قریب حالیہ کارروائی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر کے بارے میں بلوچ وائر کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں متعدد اہم نکات اٹھائے گئے ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:غزہ،عید کے موقع پر بھی شدید بمباری،24گھنٹوں میں100سے زائد فلسطینی شہید

رپورٹ کے مطابق جن مناظر کو ایک  حملہ قرار دیا جا رہا ہے، وہ دراصل پرانی تصاویر پر مبنی ہیں اور ان کا حالیہ اسٹرائیک سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا ۔ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض عناصر کی جانب سے پرانی فوٹیج کو موجودہ واقعے سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ صورت حال کا تاثر تبدیل کیا جا سکے ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ کارروائی جس مقام پر کی گئی، وہ مبینہ طور پر شدت پسندوں کا کمبیٹ ہیڈکوارٹر تھا جہاں سے سرحد پار کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی ۔ بلوچ وائر کے مطابق دستیاب شواہد اور مقامی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہدف ایک عسکری نوعیت کی تنصیب تھی، نہ کہ کوئی تعلیمی یا مذہبی ادارہ ۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذہبی کتب اور عمارت کے مخصوص حصوں کی تصاویر نمایاں کر کے عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ہلاکتوں کے تاثر کو مختلف زاویے سے پیش کیا جا سکے ۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران پر بمباری کے بجائے جوہری معاہدہ میری ترجیح ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

حکام کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس کا ہدف صرف شدت پسند عناصر تھے ۔ دوسری جانب بعض حلقے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔ موجودہ صورتحال میں متضاد دعوؤں کے باعث حقیقت تک رسائی کیلئے آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیق کو اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔

Scroll to Top