اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) آئی فون بنانے والی انٹرنیشنل کمپنی ایپل کا حکومت کے تعاون سے پاکستان میں آئی فون کی تیاری شروع کرنےکا پروگرام سامنے آگیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنی کو راغب کرنے کیلئے مختلف مراعات دینے پر اتفاق کیا ہے جن میں 8 فیصد کارکردگی پر مبنی ترغیب اور رعایتی نرخوں پر زمین کی فراہمی شامل ہے۔
ایپل وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے تیار کردہ نئی موبائل اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ پالیسی کے تحت پاکستان میں آئی فونز کی تیاری شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔
ایپل کی درخواست پر بنائی گئی یہ پالیسی مراعات پیش کرتی ہے جیسے رعایتی زمین، 8% رعایتیں، اور برآمدکیلئے پرانے آئی فونز کی تجدید کی ضرورت ہے۔
پہلے سال میں، تجدید شدہ آئی فونز کی برآمدات سے تقریباً 100 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔ ایپل انڈونیشیا، ملائیشیا اور ہندوستان میں اپنے پروگراموں کی طرح 2-3 سال پرانے آئی فونز کو ری فربش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس فریم ورک کا مقصد مقامی اجزاء کے استعمال کو موجودہ 12% سے بڑھا کر 35% تک بڑھانا ہے، جس کا ہدف 50% ہے، اور توقع ہے کہ چینی کمپنیوں سے $557 ملین سمیت لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ، پہننے کے قابل اور موبائل پارٹس میں سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔
مینوفیکچرنگ کے علاوہ، ایپل نے پاکستان میں استعمال شدہ آئی فونز کی ریفربشنگ (دوبارہ تیار کرنا) اور انہیں برآمد کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ پہلے سال میں اس اقدام سے 100 ملین ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل ہوگی۔
یہ منصوبہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مسابقتی مراعات فراہم کر کے اور مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو فروغ دے کر پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
حکام کے مطابق، ایپل ابتدائی طور پر دو سے تین سال پرانے آئی فونز کی مرمت پر توجہ دے گا، جیسا کہ اس نے اس سے قبل بھارت، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں کیا ہے، اور بعد ازاں مکمل پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت کرے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کہوٹہ:شاندارسنگِ میل عبور کرلیا،20طلباء میں کمپیوٹر ڈپلومے تقسیم
نئے فریم ورک کے تحت کارکردگی پر مبنی ترغیب کو موجودہ 6 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ایپل اور دیگر بین الاقوامی مینوفیکچررز کو سرمایہ کاری کے لیے متوجہ کیا جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ اس پالیسی کو اعلیٰ حکومتی قیادت کی حمایت حاصل ہے اور توقع ہے کہ جلد اس کی منظوری دے دی جائے گی۔ حکومت الیکٹرانکس کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کو بھی ہدف بنا رہی ہے، جس میں لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، ویئریبل ڈیوائسز اور دیگر لوازمات شامل ہیں، تاکہ طویل مدتی صنعتی حکمت عملی کو فروغ دیا جا سکے۔
چینی کمپنیاں موبائل مینوفیکچرنگ میں تقریباً 557 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، جو وزیر اعظم کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے دوران طے پانے والے معاہدوں کے بعد متوقع ہے۔
مقامی پیداوار کے فروغ کے تحت، مینوفیکچررز نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مقامی طور پر تیار کردہ پرزہ جات کے استعمال کو موجودہ 12 فیصد سے بڑھا کر پہلے سال میں 35 فیصد تک لے جائیں گے، جبکہ طویل مدت میں اسے 50 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پالیسی میں اعلیٰ درجے کے موبائل فونز پر 6 فیصد تک ایکسپورٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے فنڈز اکٹھے کئے جائیں گے
جس سے 62 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم 50,000 سے 60,000 روپے کی قیمت والے کم قیمت موبائل فونز اس لیوی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
علاوہ ازیں، حکومت اپنی الیکٹرک وہیکل پالیسی کو بھی وسعت دے رہی ہے۔ الیکٹرک دو پہیوں والی گاڑیوںکیلئے پہلے ہی 40 فیصد سبسڈی متعارف کرائی جا چکی ہے، جس کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اب اس پالیسی کا دائرہ الیکٹرک چار پہیوں والی گاڑیوں تک بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، اور 7 لاکھ سے 8 لاکھ روپے قیمت والی کم لاگت گاڑیاں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔




