شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کی پریس کانفرنس پر قیادت برہم، وفاقی وزیر نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کی حالیہ پریس کانفرنس پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں، جس کے بعد وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے سینئر قیادت کو کل اسلام آباد میں طلب کر لیا ہے۔

اس اہم ملاقات میں پریس کانفرنس کی وجہ سے پیدا ہونے والے انتشار اور جماعت کے اندرونی اختلافات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے جنرل سیکرٹری چوہدری طارق فاروق اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر افتخار علی گیلانی نے پارٹی صدر اور پارلیمانی لیڈر کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔

پارٹی عہدیداران کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال سے پارلیمانی پارٹی نے کارکنوں کے جذبات، احساسات اور جماعت کے نظریات کے خلاف رویہ اختیار کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے کارکنان پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں اور رویے سے مکمل طور پر غیر متفق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ غلام قادر کی پریس کانفرنس کا مسلم لیگ ن سے کوئی تعلق نہیں ، افتخار گیلانی

واضح رہے کہ ریاستی دارالحکومت مظفرآباد میں ہونے والی اپوزیشن کی اس پریس کانفرنس کے آفٹر شاکس آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مسلم لیگ (ن) کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آزادکشمیر کی قیادت بھی واضح طور پر تقسیم ہو گئی ہے اور رہنماؤں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔

پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم نیازی نے پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے فیس بک پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کا حصہ ضرور ہے لیکن کسی بھی جماعت کے ذاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ انہوں نے سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق کی پریس کانفرنس میں شمولیت کو ان کا ذاتی فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نہ پہلے کبھی عدم اعتماد کا حصہ بنی اور نہ ہی مستقبل میں بنے گی۔

مزید پڑھیں: حکومت کیخلاف پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی آزادکشمیر بھی تقسیم، ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کردی