اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)آزاد جموں و کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق طویل عرصہ سے جاری تعطل ختم ہوگیا ، وزیراعظم پاکستان نے سابق چیف جسٹس غلام مصطفیٰ مغل کی بطور چیف الیکشن کمشنر تقرری کی سمری پر دستخط کر دیئے ۔
واضح رہے کہ رواں ماہ ہی کشمیر ڈیجیٹل کے دو معروف تجزیہ نگار عبدالمنان سیف اللہ اور نےفرقان گردیزی نے اپنے اپنے پروگراموں میں سابق جسٹس غلام مصطفیٰ مغل کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی کی بڑی خبر بریک کی تھی جو آج پوری ہوگئی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:رمضان المبارک کا چاند نظرآگیا، رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
اس سے قبل معروف تجزیہ نگار عبدالمنان سیف اللہ نے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور شاہ غلام قادر نے تین ناموں کا پینل چیئرمین کشمیر کونسل ووزیراعظم پاکستان شہبازشریف کو ارسال کیا تھا جن میں خواجہ نسیم ، دوسرا سابق جسٹس مصطفیٰ مغل اور تیسرا عبداالحمید خان شامل ہیں ۔
معروف تجزیہ نگار عبدالمنان سیف اللہ کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک نام فائنل کرلیا گیا ہے جس کا جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے کے امکانات ہیں ۔ یہ وہ نام ہے جواس سے قبل چیف الیکشن کمشنر آزادکشمیر رہ چکے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آئی جی آزادکشمیر لیاقت علی ملک نے عہدے کا چارج سنبھال لیا، پولیس دستے کی سلامی
انہوں نے فروری 2016 میں اپنے عہدے کا حلف لیا تو جولائی میں آزادکشمیر میں الیکشن ہوئے اور مسلم لیگ ن برسر اقتدار آئی تو اس دوران کوئی بڑی دھاندلی ہوتی یا دھاندلی کے حوالے سے آوازیں اٹھتی ہوئی نہیں دیکھیں۔
دوسری جانب کشمیر ڈیجیٹل کے تجزیہ نگار فرقان گردیزی نےبھی 10 دن قبل ہی اپنی پیش گوئی میں جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کی تعیناتی کا اشارہ دے دیا تھا۔کشمیر ڈیجیٹل کے ایک پروگرام میں تجزیہ نگار فرقان گردیزی نے 10 دن قبل ہی جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل کی تعیناتی سے متعلق پیشگوئی کر دی تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فری لانسرز ایک ارب ڈالر کے برآمدی کلب میں شامل ہونے کو تیار: ابراہیم امین کا بڑا اعلان
تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی چاہے تعطل چاہتی ہو لیکن الیکشن میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے، ریاست میں حالات سازگار ہیں اور مسلم لیگ ن اس معاملے میں کافی سنجیدہ ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق یہ سمری کئی ہفتوں سے وزیراعظم آفس میں زیرِ التوا تھی، جسے اب منظوری کے بعد حتمی دستخط کے لیے صدر آزاد کشمیر کے دفتر ارسال کر دیا گیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور اسے انتخابی نظام میں تسلسل اور بروقت انتخابات کے انعقاد کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تقرری کا باضابطہ نوٹیفیکیشن صدر ریاست کی منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔




