پونچھ یونیورسٹی کا انتظامی بحران، اختلافات کھل کر سامنے آگئے

راولاکوٹ (بیورو رپورٹ): جامعہ پونچھ کے سینٹ میں جاری انتظامی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں وائس چانسلر کی تقرری کیلئے سرچ کمیٹی کی تشکیل کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آگئے۔

اجلاس کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اصغر اقبال، چانسلر، وائس چانسلر اور سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کے درمیان تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔۔

معاملہ اس حد تک بگڑا کہ بعض سینٹ ممبران کو ہراساں کرنےکیلئے پولیس کی کارروائی کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ماہ رمضان کی آمد،تعلیمی اداروں کے اوقات کار تبدیل، نوٹیفکیشن جاری

ذرائع کے مطابق سینٹ کے متعدد اراکین نے پہلے ہی سرچ کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار پر تحریری تحفظات جمع کرائے تھے۔

جن میں ڈاکٹر اصغر اقبال، ڈاکٹر جنید، ڈاکٹر ماجد محمود، ڈاکٹر کنول اور حال ہی میں عبدالخالق چوہدری شامل ہیں۔

اراکین کا کہنا ہے کہ چانسلر اور وائس چانسلر قانون کے برخلاف اپنی پسند کی سرچ کمیٹی تشکیل دینا چاہتے ہیں، جس سے ادارے کی شفافیت اور خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیرانجینئر امیر مقام کا دورہ راولاکوٹ، 446 طلباء طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم

اسی بحران کے پیش نظر اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر نے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں اس معاملے پر قرارداد پیش کی۔

جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جامعہ پونچھ میں وائس چانسلر کی تقرری کیلئے سرچ کمیٹی یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق، شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقے سے تشکیل دی جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیراسمبلی اجلاس :حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے،تلخ جملوں کا تبادلہ

اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے اور فیصلہ سازی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

سینٹ کے اراکین نے واضح کیا ہے کہ اگر قانون کی خلاف ورزی کا سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ آئندہ اجلاسوں میں بھرپور مزاحمت اور قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Scroll to Top