ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں ہونے والی بڑی سیاسی تبدیلی کے بعد نئی حکومت کی تشکیل اور حلف برداری کی تقریب کو علاقائی سطح پر ایک اہم سفارتی ایونٹ بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
اس تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کے تمام سربراہانِ حکومت کو مدعو کیا جائے گا۔
سیاسی تبدیلی اور حلف برداری کا شیڈول:
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی سے زائد نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب 17 فروری کو منعقد ہوگی، جس کا انتظام عبوری حکومت سنبھال رہی ہے۔ یہ تقریب ملک کی نئی قیادت کے باقاعدہ آغاز کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی سب سے آگے، 77 نشستوں کی برتری
سفارتی ترجیحات اور عالمی معززین کی شرکت:
بی این پی کے جوائنٹ سیکریٹری جنرل (خارجہ امور) ہمایوں کبیر کے مطابق، تقریب کو بین الاقوامی رنگ دینے کے لیے سارک ممالک کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے سربراہان کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔ نئی حکومت کا مقصد اپنی خارجہ پالیسی میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شہباز شریف اور نریندر مودی کی ایک ہی تقریب میں ممکنہ موجودگی علاقائی سیاست میں ایک نئی سفارتی صف بندی کا اشارہ ہو سکتی ہے۔




