بھارت کی ڈیفنس ایکوزیشن کونسل نے فرانس کی کمپنی ڈاسو ایوی ایشن سے 114 رافیل لڑاکا طیارے 3.25 ٹریلین بھارتی روپے (40ارب ڈالر) میں خریدنے کی ابتدائی تجویز کی منظوری دے دی ہے جبکہ فرانسیسی کمپنی نے پاکستان کے ہاتھوں رافیل گرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔
حالیہ مہینوں میں بھارتی فضائیہ کے فائٹر اسکواڈرنز کی تعداد کم ہو کر 29 رہ گئی ہے، جو منظور شدہ تعداد 42 سے خاصی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہونیوالے 4 بھارتی رافیل طیاروں کے نمبرز سامنے آگئے
پاکستان سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھارت کی فوج کو جدید بنانے کی ضرورت کو ناگزیر بنا دیا ہے،حالانہ پاکستان سے جنگ میں رافیل ناکام ہوئے تھے اس کے باوجود بھارت رافیل کو ہی ترجیح دے رہا ہے۔
یہ تجویز فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے دورۂ بھارت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کی تجارتی اور تکنیکی تفصیلات پر بات چیت کی راہ ہموار کرتی ہے۔
ادھر ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ رافیل طیارے بنانے والی کمپنی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے گرانے کی تصدیق کردی ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رافیل کمپنی نے پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے گرائے جانے کی معلومات کی توثیق کی ہے۔طاہر اندرابی نے کہا کہ مستقبل میں بھی کسی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی قانونی ٹیم نے عالمی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سماعت میں حصہ لیا، جبکہ بھارت اس سماعت میں شریک نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا جنگی جنون،رافیل کے فیل ہونے پر تیجس طیارے خریدنے کی منظوری دیدی
پاکستان نے دوبارہ اس بات کی تجدید کی کہ دونوں فریقین کے لیے سندھ طاس معاہدے کی مکمل پابندی لازمی ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کی آزادانہ نقل و حرکت اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔




