ایپسٹین سکینڈل پر استعفے کا دبائو، برطانوی وزیراعظم نے مطالبہ مسترد کردیا

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر استعفا کا دباؤ بڑھنے لگا تاہم انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کے سخت مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

برطانوی لیبر پارٹی کے رکن پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانوی سفیر مقرر کرنے کے بعد ان کی حکومت ایک سنگین بحران میں پھنس گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین سکینڈل،برطانیہ اور ناروے کے 2اہم عہدیدار مستعفی ہو گئے

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات رکھنے والے پیٹر مینڈلسن کی تقرری پر دباؤ کے باعث اسٹارمر نے صورتحال کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔

اسکاٹش لیبر کے لیڈر انس سرور نے بھی برطانوی وزیراعظم سے استعفا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک میں تبدیلی لانے کا موقع حاصل کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی ہے۔

اس لیے وہ نہ تو اپنے عوامی مینڈیٹ سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بعض رہنما کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اصل توجہ اس بات پر ہے کہ پاپولسٹ ریفارم پارٹی اقتدار میں نہ آ سکے، جس کی قیادت بریگزٹ کے حامی نائجل فراج کر رہے ہیں۔

اسٹارمر کا کہنا تھا کہ یہی ان کی جدوجہد ہے، یہی سب کی مشترکہ جدوجہد ہے، اور وہ سب اس مقصد کے لیے مل کر کھڑے ہیں۔

اسکاٹش لیبر پارٹی کے رہنما انس سرور کی جانب سے برطانوی وزیر اعظم کے استعفا کے مطالبے اور محض دو دن میں دوسرے سینئر معاون کے مستعفی ہونے سے ان کے فیصلے اور حکومت چلانے کی صلاحیت پر اٹھنے والے سوالات کم نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آگئے

رپورٹ کے مطابق کیئر اسٹارمر کے کمیونیکیشنز چیف ٹم ایلن نے استعفیٰ دے دیا، جو اسٹارمر کے قریبی ترین معاون مورگن مک سوینی کے بعد دوسرا بڑا استعفیٰ تھا۔

مک سوینی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانیہ کے اعلیٰ سفارتی عہدے پر تعینات کرنے کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔

انس سرور کی مداخلت کے باوجود بعد ازاں اسٹارمر کو اپنی کابینہ کے سینئر وزرا اور ممکنہ قیادت کے حریفوں کی جانب سے حمایت کے پیغامات موصول ہوئے۔

لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کے اجلاس میں مثبت ردِعمل نے بھی عندیہ دیا کہ فوری طور پر انہیں ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں ہو گی۔

اس سے قبل انس سرور نے اسکاٹ لینڈ میں جہاں 2024 کے انتخابات کے بعد لیبر پارٹی کی حمایت میں کمی آئی ہے، کہا کہ انہیں بھاری دل کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے مفاد میں لندن میں قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں سیاسی ہلچل ،پہلی مسلمان وزیراعظم شبانہ محمود کے آنے کی بارگشت

پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ خلفشار ختم ہونا چاہیے اور ڈاؤننگ اسٹریٹ میں قیادت کو بدلنا ہوگا۔

گزشتہ دنوں برطانوی وزیراعظم کےممکنہ استعفے کی صورت میں نئے وزیراعظم کیلئے شبانہ محمود کا نام بھی سامنے آیا تھا۔

Scroll to Top