‘سپر ہیومن’13 سالہ بچے نے وہ کر دکھایا جو تجربہ کار تیراک نہ کر سکے!

آسٹریلیا کے مغربی ساحل پر ایک خاندانی پکنک اس وقت ایک طویل اور خوفناک آزمائش میں تبدیل ہو گئی، جب تیز ہواؤں اور بلند ہوتی لہروں نے ایک خاندان کو کئی گھنٹوں تک کھلے سمندر میں بے بس کر دیا۔ اس واقعے میں 13 سالہ آسٹن ایپل بی کی جدوجہد کو ریسکیو حکام نے غیر معمولی قرار دیا، تاہم لڑکا خود اپنی کوشش کو کسی بہادری سے تعبیر کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یہ واقعہ مغربی آسٹریلیا کے علاقے کوئنڈالوپ بیچ کے قریب پیش آیا، جہاں جوآن ایپل بی اپنے بچوں کے ساتھ پیڈل بورڈز اور کائیک کے ذریعے پانی میں تفریح کر رہی تھیں۔ تفریح کے دوران بچے کچھ زیادہ دور نکل گئے، اسی دوران ہوا تیز ہو گئی، چپو کھو گئے اور پانی کا بہاؤ خاندان کو ساحل سے مزید دور لے گیا۔ حالات تیزی سے بگڑتے گئے اور واپسی ممکن نہ رہی۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوآن ایپل بی نے فیصلہ کیا کہ کسی کو مدد کے لیے ساحل تک پہنچنا ہوگا، مگر وہ اپنے 12 سالہ بیٹے بیو اور آٹھ سالہ بیٹی گریس کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی تھیں۔ اس موقع پر آسٹن ایپل بی کو کائیک کے ذریعے واپس بھیجا گیا، تاہم کسی کو علم نہیں تھا کہ کائیک پہلے ہی خراب ہو چکی تھی اور اس میں پانی بھر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پیاز صرف ذائقہ ہی نہیں، خوبصورتی کا راز بھی ہے… مگر کیسے؟

کائیک بار بار الٹنے لگی، ایک چپو ضائع ہو گیا اور آسٹن کو ہاتھوں سے کائیک چلانا پڑا۔ کچھ دیر بعد کائیک مکمل طور پر ناکارہ ہو گئی اور وہ سمندر میں تیرنے پر مجبور ہو گیا۔ حالات خطرناک ہوتے جا رہے تھے اور کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ ایک موقع پر آسٹن نے کائیک چھوڑ دی اور طویل تیراکی کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب جوآن ایپل بی اور بچے پیڈل بورڈز کے سہارے سمندر میں بہتے رہے۔ وقت کے ساتھ لہریں بلند ہوتی گئیں، روشنی مدھم پڑ گئی اور سردی میں اضافہ ہو گیا۔ اگرچہ سب نے لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں، مگر ان کے پاس نہ خوراک تھی اور نہ پانی۔ جوآن کو یقین تھا کہ آسٹن بہت جلد ساحل پہنچ جائے گا، مگر وقت گزرتا رہا اور کوئی مدد نظر نہ آئی، جس پر خدشات بڑھتے چلے گئے۔

آسٹن نے تقریباً چار کلومیٹر تک مسلسل تیراکی کی۔ اس دوران اس نے لائف جیکٹ بھی چھوڑ دی کیونکہ وہ مددگار ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد وہ شام کے وقت ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا، جہاں اس نے اپنی والدہ کا بیگ تلاش کر کے ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی۔ اس کال کے بعد فوری طور پر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

مدد کے لیے کال کرنے کے بعد آسٹن بے ہوش ہو گیا اور اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس نے اپنے والد سے رابطہ کیا۔ اس وقت تک اسے اپنے خاندان کی حالت کا علم نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر بعد اطلاع ملی کہ جوآن ایپل بی اور دونوں بچے سمندر سے زندہ نکال لیے گئے ہیں، جس پر اسپتال میں موجود طبی عملے اور پولیس اہلکاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

سمندر میں ریسکیو کے دوران بھی صورتحال نہایت نازک رہی۔ سردی، اندھیرے اور بلند لہروں کے باعث جوآن کو اپنے بچوں کو سنبھالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو کشتی نظر آنے کے باوجود وہ مطمئن نہ ہو سکیں کیونکہ بچے پانی میں گر چکے تھے اور انہیں دوبارہ پکڑنا مشکل ہو رہا تھا۔

تمام افراد کو معمولی زخموں کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا۔ آسٹن کو لینے والا وہی ایمبولینس اہلکار تھا جس نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ اس کی والدہ اور بہن بھائی بھی محفوظ ہیں۔ آسٹن اب دوبارہ اسکول جا نا شروع ہو گیاہے، تاہم شدید درد کے باعث بیساکھیوں کے سہارے چل رہا ہے۔

مزید پڑھیں: جاپان آنے والی آسٹریلوی سیاح چیئر لفٹ میں پھنس کر جان کی بازی ہار گئی

ریسکیو اداروں کے مطابق، آسٹن کی جدوجہد غیر معمولی تھی۔ نیچرلِسٹ والینٹیئر میرین ریسکیو گروپ کے کمانڈر نے اس کوشش کو انسانی حدوں سے بڑھ کر قرار دیا، جبکہ پولیس حکام کے مطابق اس کی ہمت اور ثابت قدمی نے اس کی والدہ اور بہن بھائیوں کی جان بچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

Scroll to Top