9فٹ ریکارڈ برفباری،یونین کونسل بھیڈی برف میں ڈوب گئی

حویلی (کشمیر ڈیجیٹل)ضلع حویلی کی یونین کونسل بھیڈی 18 ہزار سے زائد آبادی، 2000 سے زائد گھرانوں اور 14 دیہاتوں میں مشتمل اس وقت شدید برف باری کے باعث ریاست بھر سے منقطع ہوگئی۔

یونین کونسل بھیڈی شدید برفباری کی زد میں، 9 فٹ کے قریب برف پڑنے سے شہری گھروں میں محصور ہو گئے

بھیڈی کے 14 دیہاتوں کا ضلعی ہیڈکوارٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا ، یونین کونسل میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم

چھ روز ہونے کے باوجود بھیڈی شاہراہِ کو کھولا نہ جا سکا ،علاقے میں خوراک ناپید ہونے کا بھی خدشہ

مزید یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت خراب، بتائے بغیر ہسپتال منتقل کیا گیا، اپوزیشن کا اظہار تشویش

شہریوں کا حکومت وقت وزیراعظم آزاد کشمیر سے شاہرات کی جلد از جلد بحالی کا مطالبہ

اس وقت 4 دیہات برفباری میں ڈوب گئے۔برف گھروں سے اونچی ہے اور لوگ شدید ترین مشکلات کا شکار ہیں اور انسانی بنیادوں پر مدد کے طلبگار ہیں۔

یونین کونسل کے تمام گاوں مفلوج ہو کر رہ گے ہیں۔ کسی جگہ پر ایک گھر کا دوسرے گھر سے کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی کوئی راستہ ہے۔ بنیادی صحت مرکز مکمل بند ہے اور بجلی کے کھمبے گر کر لائنیں مکمل تباہ ہو گئی ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

کئی جگہوں پر بھاری برف سے گھروں کے گرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اور حالات کے پیش نظر مجھے کچھ اچھی خبریں نہیں مل رہی۔

سماجی رہنما باسط فاروقی کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کر کے سپیشل ٹیمیں طوفانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھیڈی روانہ کی جائیںتاکہ عوام علاقہ کو مشکل صورتحال سے نکالا جاسکے۔

عوامی حلقوں کا وزیراعظم آذادکشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھورسے گزارش کی کہ ہنگامی بنیادوں پر آذادکشمیر میں کام کرنے والی تمام نیشنل اور انٹرنیشنل این جی اوز کے متعلقہ سربراہان کو بلا کر ان سے میٹنگ کر کے بھیڈی کی اس ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے انہیں احکامات جاری کیے جائیں۔

وہاں پاک آرمی کی مدد سے راشن اور دیگر موسم سرما کی ضروری اشیاء کو پہنچانے کے عمل کو یقینی بنائیں۔

سماجی رہنما باسط فاروقی نےکہا کہ وزیراعظم سے گزارش ہے کہ آذادکشمیر کی ریاستی تنظیم اے جے کے آر ایس پی کو فعال کر کے کسی اہل پروفیشنل کے حوالے کیا جائے۔

فی الفور ایمرجنسی میں دونرز سے پراجیکٹس حاصل کر کے حکومت کے لیے معاون ثابت ہوتے ہوئے حالات کو کنٹرول کر سکے۔ چونکہ جس طرح کی اطلاعات ہیں اس میں سیاست کرنا کسی صورت مناسب نہیں ۔امید ہے اس کیلئے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

Scroll to Top