میرج بل نہیں مانتے،غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا،حافظ حمداللہ

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماحافظ حمد اللہ نے شادی سے متعلق قانون سازی پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ مجھے غصہ آیا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سربراہ جے یو آئی کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور انکی عمریں 18 سال سے کم ہوں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوااسمبلی،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور

انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو پاؤں تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ میں دوسری شادی اور دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہوں، وہ ایک ہی کافی ہے، لیکن اگر غصہ آیا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔

حافظ حمد اللہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھا کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو ںاور انکی عمریں بھی 18 سال سے کم ہو ں۔

مرکزی رہنما جے یوآئی ف حافظ حمد اللہ نے کم عمری کی شادی سے متعلق بل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سراسر غیر شرعی قراردےدیا

انہوں نے کہا کہ 18سال کی عمر کی شرط شریعت، فقہ اور اسلامی رہنمائی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ،

مزید یہ بھی پڑھیں:ملوٹ:شوکت محمود سپرد خاک ، مرنے کے بعد کی ویڈیو وائرل،ملوٹ بیس بگلہ روڈ تاحال غیرفعال

یہ بل این جی اوز کے فنڈز اور بیرونی دبائو کے تحت عجلت میں منظور کیا گیا جو عوامی اعتماد اور قبائلی روایات دونوں کے منافی ہے ۔

ایسے حساس مذہبی اور سماجی معاملات میں اسلامی نظریاتی کونسل سمیت معتبر دینی اداروں کی رائے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا، جو افسوس ناک امر ہے ۔

Scroll to Top