نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے شمالی اور پہاڑی علاقوں کے لیے برفانی تودے (Avalanche) اور برفباری کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ای او سی کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں مزید برفباری کا سبب بنے گا، جس کے باعث موجودہ موسمی صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
این ای او سی کی جانب سے جاری کردہ موسمی ایڈوائزری کے مطابق یہ الرٹ 23 جنوری سے 29 جنوری تک مؤثر رہے گا۔ اس دوران گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید برفباری کا امکان ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں بھی برفباری متوقع ہے۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل برفباری کے باعث برف کے ذخیرے میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں سڑکوں پر آمدورفت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، شمالی خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان میں اضافی برفباری موجودہ صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑی سڑکیں بند ہونے اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان : بارش اور برفباری،61 افرادجاں بحق، 50 مکان تباہ
این ای او سی کے مطابق 24 جنوری کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں سردی کی شدید لہر متوقع ہے، جبکہ پنجاب کے میدانی علاقوں اور شمالی سندھ میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید دھند چھائے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ برفباری اور دھند کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ مسافروں کو ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کرنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ایمرجنسی ٹیموں کو ہمہ وقت متحرک رکھیں اور برف ہٹانے والی مشینری اور ریسپانس یونٹس کو فعال رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے بارش اور برفباری کے نئے سپیل کی پیشگوئی کر دی
این ای او سی نے واضح کیا ہے کہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور متعلقہ اداروں کو بروقت اپڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔ شہری “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے حقیقی وقت میں ایمرجنسی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔




