الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، کیونکہ وزیر اعظم نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سبسڈی کی منظوری دے دی ہے۔ اس حکومتی فیصلے کے تحت ملک بھر میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس کا مقصد صارفین کو براہِ راست ریلیف دینا ہے۔
حکومت کی جانب سے الیکٹرک بائیک، رکشہ، لوڈر اور دیگر الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سبسڈی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 41 ہزار الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مالی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ پہلے فیز میں شامل گاڑیوں کی تفصیلات کے مطابق 40 ہزار الیکٹرک موٹر بائیکس جبکہ ایک ہزار الیکٹرک رکشے اور لوڈرز اس مرحلے کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس سکیم پر عملدرآمد شروع
سرکاری اعلان کے مطابق صارفین کو ای بائیک پر 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی۔ واضح کیا گیا ہے کہ یہ سبسڈی صارفین کو براہِ راست فراہم کی جائے گی اور سبسڈی کی رقم براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور درخواست دہندگان کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومتی منصوبے کے دوسرے مرحلے سے متعلق بھی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ دوسرے فیز میں 78 ہزار 170 الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مجموعی طور پر 8.95 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ اس مرحلے میں تصدیق شدہ درخواست دہندگان کو سبسڈی کی رقم منتقل کر دی گئی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس منصوبے پر عملی طور پر عملدرآمد جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک چارج میں 425 کلومیٹرسفر، چینی کمپنی نے پاکستان میں2نئی الیکٹرک گاڑیاں لانچ کردیں
یہ اقدام الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت اٹھایا گیا قدم ہے، جس میں پہلے اور دوسرے مرحلے کے ذریعے بڑی تعداد میں صارفین کو مالی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت کے مطابق سبسڈی کا یہ نظام مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔




