تہران/ ڈیوس:ایران میں مظاہروں کے دوران 3117افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام کے حصول سے متعلق ایک بار پھر متنبہ کردیاہے
اے ایف پی کے مطابق ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 3117 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ احتجاج دسمبر کے آخر میں شروع ہوئے تھے، جنہیں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے کنٹرول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خامنہ ای کیخلاف کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی پر علماء جہاد کا فتویٰ دینگے، ایران
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران کی فاؤنڈیشن برائے شہداء و جانبازان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ہلاکتوں میں شامل 2427 افراد کو اسلامی قوانین کے تحت “شہید” قرار دیا گیا ہے، جن میں بڑی تعداد سکیورٹی اہلکاروں کی بھی شامل ہے۔
ایرانی مذہبی قیادت نے ان احتجاجی مظاہروں کو “دہشتگردانہ کارروائی” اور پرتشدد فسادات قرار دیا ہے جبکہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان مظاہروں کو امریکا کی حمایت حاصل تھی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ہزاروں عام شہری جو سیاسی و سماجی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے، سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے مارے گئے۔
حقوق گروپوں کے مطابق اصل ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ادھر امریکی میڈیا سی این بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو دھمکیوں کا جواب، یورپی یونین نے امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا، اگر امریکا نے ایران کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔
ترمپ نے انٹریو کے دوران کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرنی چاہیے، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ ایران کیخلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران میں سڑکوں پر اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کردیا۔




