جنوری “کشمیر میں موت اور بھارت میں جمہوریت” کا مہینہ ہے،عزیر احمد غزالی

چیئرمین پاسبان حریت جموں کشمیر عزیر احمد غزالی کے مطابق ریاست جموں کشمیر کی تاریخ میں جنوری سال کا دردناک مہینہ ہے جس میں بھارتی فوجیوں نے قتل ، بربریت اور ظلم کی بدترین مثالیں قائم کیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جنوری کو “موت کا مہینہ” کہا جاتا ہے۔

یہ وہ مہینہ ہے جس میں بھارتی ریاستی جبر نے بارہا تمام حدیں پار کیں اور کشمیری عوام کو آزادی ، حق خودارادیت اور انصاف مانگنے کی پاداش میں اجتماعی سزا دینے کیلئے خون کی نہریں بہائیں ۔ جنوری کشمیری عوام کے لیے ماتم اور سوگ کی نشانی نہیں بلکہ اس عزم کی یاد دہانی بھی ہے جو قتلِ عام اور ریاستی قہر کے باوجود آج تک قائم ہے۔

6 جنوری 1993 کی صبح سوپور میں ایک قیامت خیز منظر سامنے آیا۔ بھارتی نیم فوجی دستوں نے شہری آبادی پر بلاامتیاز فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 55 سے زائد افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ بعد ازاں گھروں، دکانوں، بازاروں اور گاڑیوں پر گن پاؤڈر چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ مرد، عورتیں، بچے اور مسافر جو سامنے آیا، ریاستی قہر کا نشانہ بنا۔ سوپور کی یہ صبح اجتماعی سزا اور منظم انتقام کی بدترین مثال بن گئی۔

15 جنوری 1990 کو ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں بھارتی فوج نے نہتے شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔ اس اندھا دھند کارروائی میں 17 عام شہری شہید اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق فوجی اہلکاروں نے کسی پیشگی وارننگ کے بغیر فائر کھولا۔ زخمیوں میں نوجوان، بزرگ اور عام راہگیر شامل تھے۔ شہریوں کو صرف آزادی مانگنے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق ’’را‘‘ چیف نے کشمیر پر مودی کی کشمیرپالیسی وبے حسی بے نقاب کردی

19 جنوری 1991 کو سری نگر کے علاقے مگر مال باغ میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کی۔ اس واقعے میں 11 شہری شہید اور 40 کے قریب زخمی ہوئے۔ کرفیو اور سخت سیکیورٹی پابندیوں کے باعث کئی زخمیوں کو بروقت طبی امداد نہ مل سکی۔ یہ واقعہ اس بات کا تسلسل تھا کہ سری نگر اور دیگر شہری علاقوں میں بھی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبایا جا رہا تھا۔ تاکہ عوام میں خوف اور دہشت قائم کی جائے اور وہ آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں ۔

21 جنوری 1990 کو سری نگر کے علاقے گاؤ کدل بسنت باغ میں ایک پُرامن جلوس پر فائرنگ کی گئی۔ مظاہرین اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم شدہ ہے حقِ خودارادیت مانگ رہے تھے ۔ بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 55 سے زائد شہری شہید اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس دن اس وسیع پیمانے کے قتل عام سے واضح پیغام دے دیا گیا کہ آزادی کا سیاسی انداز میں بھی مطالبہ کرنا جرم ہے، اور اس جرم کی سزا موت ہے۔

26 جنوری 1998 کو ضلع گاندر بل کے علاقے وندہامہ میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جس میں 27 کشمیری پنڈت شہری ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ بھارت کے نام نہاد یومِ جمہوریہ کے روز پیش آیا۔ سرکاری طور پر اس کا الزام کشمیری آزادی پسندوں پر عائد کیا گیا، تاہم آزادی پسند خیمے، حریت قیادت اور متعدد کشمیری حلقوں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ ان حلقوں کے مطابق یہ کارروائی بھارتی فوج کی خفیہ یونٹ نے اپنے جرائم چھپانے اور کشمیری تحریک کو بدنام کرنے کے لیے کی۔

27 جنوری 1993 کو کپواڑہ میں بھارتی قابض فوج نے 27 شہریوں کو شہید کر دیا۔ ان کا واحد “جرم” یہ تھا کہ ایک دن قبل 26 جنوری کو شہریوں نے بھارت کے نام نہاد یومِ جمہوریہ کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ اختلافِ رائے کی سزا موت قرار دی جا چکی تھی۔ یہ قتل کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے ریاستی فیصلے کا حصہ تھے۔

یہ تمام تر واقعات انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کیلئے سوالیہ نشان ہیں کہ وہ بھارت کو نہتے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم ، ظلم و استبداد سے روکنے میں عملاً ناکام رہے۔ مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں گزشتہ چھتیس برسوں میں ساٹھ سے زائد ایسے واقعات اور سانحات موجود ہیں کہ جب بھارتی قابض فوج نے کشمیری شہریوں کو اجتماعی قتلِ عام کے واقعات میں ہزاروں شہریوں کو شہید کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امیر مقام کا دورہ ، جنوبی افریقی پارلیمنٹیرینز نے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کردی

مقبوضہ جموں کشمیر کا کوئی ضلع یا شہر ایسا نہیں جہاں بھارتی فوج نے انسانیت کیخلاف خونی کھیل نہ کھیلا ہوا وقت کی ضرورت ہے کہ ریاست کے عوام ان قربانیوں کو یاد رکھیں ، بھارتی ظلم ، دہشت گردی ، بربریت ، سفاکیت کیخلاف اپنی مزاحمت کو مضبوط بنائیں ۔۔۔۔
(تحریر و ترتیب: عزیر احمد غزالی چیئرمین پاسبان حریت جموں کشمیر)

Scroll to Top