پاکستان میں حالیہ دنوں واٹس ایپ گروپس اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک پیغام تیزی سے وائرل ہوا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کے رہائشی dastakpunjab.online نامی ویب سائٹ کے ذریعے بغیر ڈرائیونگ ٹیسٹ دیے آن لائن ڈرائیونگ لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پیغام نے شہریوں میں تشویش کے ساتھ ساتھ امید بھی پیدا کی، تاہم حقیقت اس کے برعکس سامنے آئی ہے۔
جیو فیکٹ چیک اور متعلقہ حکومتی حکام نے اس دعوے کی تصدیق کے بعد واضح کیا ہے کہ یہ خبر بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ حکام کے مطابق dastakpunjab.online ایک جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی ویب سائٹ ہے، جس کا حکومتِ پنجاب یا پنجاب ٹریفک پولیس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ویب سائٹ سرکاری خدمات کا جھوٹا تاثر دے کر شہریوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس، لِرننگ ڈرائیونگ لائسنس، ڈپلیکیٹ لائسنس یا لائسنس کی تجدید (renewal) کے لیے صرف اور صرف حکومتِ پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ dastak.punjab.gov.pk استعمال کی جا سکتی ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ تمام سرکاری ویب سائٹس کا ڈومین govt.pk ہوتا ہے، جبکہ dastakpunjab.online ایک غیر سرکاری ویب سائٹ ہے، جس کا مقصد شہریوں کو دھوکہ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرائیونگ لائسنس کا حصول مزیدآسان،5سے 10منٹ میں حاصل کریں
پنجاب ٹریفک پولیس کے ترجمان محمد عثمان قریشی نے اس حوالے سے بتایا کہ متعدد جعلی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز سرکاری اداروں کا روپ دھار کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پہلی بار ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دینے والے افراد کو بایومیٹرک تصدیق، تصاویر، ویڈیو ریکارڈنگ اور ڈرائیونگ ٹیسٹ کے مراحل مکمل کرنے کے لیے خود ٹریفک پولیس مراکز جانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ عمل مکمل طور پر آن لائن ممکن نہیں ہے۔
اوپن سورس انٹیلیجنس ایکسپرٹ انیس قریشی کے مطابق ایسی جعلی ویب سائٹس شناختی معلومات کے حصول اور مالی فراڈ میں ملوث ہوتی ہیں۔ ان ویب سائٹس پر صارفین سے شناختی کارڈ کی تفصیلات، ڈرائیونگ لائسنس کی تصاویر اور فون نمبرز حاصل کیے جاتے ہیں، جس کے بعد ایزی پیسہ یا جاز کیش کے ذریعے رقم منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 18دن میں ڈرائیونگ سیکھنے والا نوجوان محمد طفیل سعودی عرب پہنچ گیا
نتیجتاً یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکومتِ پنجاب dastakpunjab.online کے ذریعے بغیر ڈرائیونگ ٹیسٹ لائسنس جاری نہیں کر رہی۔ یہ دعویٰ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے فراڈ سے بچنے کے لیے صرف سرکاری اور آفیشل ویب سائٹس کا ہی استعمال کریں۔




