پاکستان میں اکثر شہری روزانہ کی زندگی میں انٹرنیٹ سست یا بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اکثرسننے میں آیا ہو گا’’معاف کیجیے، میرا انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا، اس لیے آپ کا پیغام دیر سے پڑھا،یاآج کارڈ کی ادائیگی ممکن نہیں، انٹرنیٹ بند ہے، اس لیے کیش ہی قابل قبول ہے۔‘‘
یہ صورتحال ہمیں بتاتی ہے کہ موبائل فون یا انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات کسی مشکل وقت میں بھی کام نہیں آتیں جب سگنل کمزور یا انٹرنیٹ بند ہو۔
اب پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے اور ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی سروس متعارف کروانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی 26 فروری کو ہونے جا رہی ہے، جس کے تحت ملک میں موجود ٹیلی کام کمپنیوں کو 700 میگا ہرٹز سے 3500 میگا ہرٹز کی مختلف فریکونسی کے لائسنس 15 سال کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5G سروسز کی لانچ تاخیر کا شکار، قانونی مسائل آڑے آ گئے
پاکستان ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (PTA) کے جاری انفارمیشن میمورینڈم کے مطابق، ملک میں سنہ 2035 تک تین مراحل میں فائیو جی سروس متعارف کرائی جائے گی۔ نیلامی کی شرائط کے مطابق، پہلے مرحلے میں ٹیلی کام کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ سنہ 2028 تک بڑے شہروں میں فائیو جی لانچ کریں اور فور جی کی سپیڈ کم از کم 20 ایم بی تک بڑھائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں زیادہ برینڈوتھ کے ذریعے صارفین کو تیز اور مستحکم سروس فراہم کر سکیں گی۔
پاکستان میں ماضی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے سگنلز سکیورٹی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر بند کیے جاتے رہے ہیں، اور اکثر اوقات انٹرنیٹ کی رفتار اتنی سست ہو جاتی ہے کہ صارفین محسوس کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ تقریباً بند ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والے ہو جائیں ہوشیار! بڑی خبر آگئی
سپیکٹرم لائسنس، برینڈوتھ اور فائیو جی سروسز ٹیکنیکل معاملات ہیں، مگر عوام کی اولین ترجیح ہمیشہ تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ ہے۔ اس ٹیکنیکل معاملے کو سمجھے بغیر سست رفتار انٹرنیٹ کے مسئلے کو صحیح طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔




