ترسیلات زر بھیجنے اور وصول کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک اہم اور خوش آئند اقدام اٹھاتے ہوئے ترسیلات زر کے نظام کو مزید آسان، شفاف اور ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اب ایکسچینج کمپنیاں بھی ملک کے جدید ڈیجیٹل ادائیگی نظام ’’راست‘‘ کے ذریعے ترسیلات زر کی سہولت فراہم کر سکیں گی، جس سے رقوم بھیجنے اور وصول کرنے کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور محفوظ ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ ’’راست‘‘ حکومت کی جانب سے 2021 میں متعارف کروایا گیا جدید ڈیجیٹل ادائیگی نظام ہے، جس کا مقصد مالیاتی خدمات کو ہر فرد تک پہنچانا اور ملک میں شفاف مالیاتی نظام کو فروغ دینا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے متعلق باقاعدہ ہدایات 15 جنوری 2026 کو ای پی ڈی سرکولر لیٹر نمبر 02 کے ذریعے جاری کی گئی ہیں۔ ان ہدایات کے بعد ایکسچینج کمپنیوں کو اجازت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ ’’راست‘‘ پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ترسیلات زر کی ادائیگی اور وصولی کا عمل مکمل کریں۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک پاکستانیوں نے 2025 میں وطن کتنےڈالر زبھیجے؟ اسٹیٹ بینک رپورٹ

اس نئے نظام کے تحت وہ افراد جو بیرونِ ملک سے رقوم ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے پاکستان منتقل کرتے ہیں، اب اپنی رقوم براہِ راست بینک اکاؤنٹس، مائیکرو فنانس بینکوں یا الیکٹرانک منی اداروں میں موجود ڈیجیٹل والٹس میں وصول کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف کیش پر انحصار کم ہوگا بلکہ صارفین کو وقت کی بچت اور اضافی اخراجات سے بھی نجات حاصل ہوگی۔

اسٹیٹ بینک نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک جدید اور ہمہ گیر ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی تعمیر اسٹرٹیجک پلان 2023-2028 کے کلیدی اہداف میں شامل ہے، جس کا مقصد ترسیلات زر کو باضابطہ چینلز کے ذریعے لانا اور مالی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا بیرون ملک نوکری کے خواہشمند نوجوانوں کیلئے مالی تعاون کا اعلان

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد مزید بڑھے گا، جبکہ ترسیلات زر کے حجم میں اضافے اور معیشت کو استحکام دینے میں بھی مدد ملے گی۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف رقوم کی منتقلی کی رفتار بڑھے گی بلکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو جائے گی، جو پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

Scroll to Top