واشنگٹن/تہران:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر تنبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں قتل عام بند ہوگیا ہے جبکہ ایران نے امریکی حملےکی صورت میں خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانے بنانے کی دھمکی دیدی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ انہیں بتایاگیا کہ ایران میں پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایران میں قتل عام بھی بند ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا 24گھنٹوں میں ایران پر حملہ کرسکتا ہے، برطانوی خبررساں ایجنسی
امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک بار پھر ایران کو خبر دار کیا کہ مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رکھنے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
وینزویلا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں راز افشاکرنیوالے شخص کو گرفتار کرلیاگیاہے۔ پینٹاگون کاکنٹریکٹر وینزویلا آپریشن سے متعلق خفیہ معلومات لیک کرنے پر گرفتار کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، گرینڈ لینڈ سے متعلق دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ صدرٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دنیا میں تجارت کے ذریعے 8 جنگیں رکوائیں۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہےکہ امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائےگا۔
خبر رساں ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے سینئر ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی ممالک کو پیغام دے دیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ واشنگٹن کو ایران پر حملے سے روکیں۔
سینئر ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، یواے ای اور ترکیے سمیت خطےکے ممالک کو بتادیا ہےکہ امریکا نےحملہ کیا تو ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی جوابی حملےکی زد میں آئیں گے۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے ایران پر امریکی حملےکی مخالفت کی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو خبردار کیا ہےکہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائےگی اور اس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچےگا۔
اخبار کے مطابق بظاہر یہ عرب ممالک خاموش ہیں لیکن پس منظر میں رہ کر لابنگ کر رہے ہیں کہ امریکا ایران پر حملہ نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید دھچکہ لگے گا اور لامحالہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔
اخبار کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یقین دلایا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گے اور امریکا کو ایران پر حملےکے لیے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ یہ اقدام امریکی کارروائی سے خود کو دور رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں مظاہروں کے باوجود حکومت مستحکم، برطانوی میڈیا رپورٹ
امریکی اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خدشہ ہےکہ ایران پر حملے سے آبنائے ہرمز کے ذریعےگزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے، یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر ایران کو اس کے عرب پڑوسیوں سے جدا کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصےکی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔




