ایران سے پاکستانی طلبا، زائرین اور دیگر شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ دو روز کے دوران 200 سے زائد پاکستانی شہری گوادر کے علاقے میں واقع گبد-250 رمضان بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے، جبکہ مزید طلبا کی آمد بدھ کے روز متوقع ہے۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کے مطابق منگل کے روز ایران کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی طلبا کا ایک گروپ گبد کے راستے پاکستان میں داخل ہوا، جس کے بعد انہیں سیکیورٹی انتظامات کے تحت گوادر منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ شام گئے مجموعی طور پر 51 طلبا گوادر پہنچے، جن میں 24 طالبات اور 27 طلبا شامل تھے۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نے کہا کہ ان طلبا کو گوادر میں عارضی طور پر ٹھہرایا گیا، جہاں ان کے قیام اور سیکیورٹی کے تمام انتظامات کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبا کو ان کے متعلقہ شہروں میں بھیجنے کے لیے سیکیورٹی کے ساتھ انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران ممکنہ جنگ، 24 گھنٹے اہم قرار،ٹرمپ نے اشارہ دیدیا
نقیب اللہ کاکڑ کے مطابق پاکستانی حکام کو تہران میں موجود متعلقہ حکام کی جانب سے طلبا کی واپسی کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد گوادر انتظامیہ نے ان کی آمد سے قبل تمام ضروری انتظامات مکمل کیے۔
گوادر میں تعینات ایک سینئر سرکاری افسر کے مطابق ایران سے واپس آنے والے طلبا زنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں زیرِ تعلیم تھے۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایرانی حکومت نے پرتشدد واقعات میں اضافے کے باعث اس تعلیمی ادارے کو بند کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی طلبا نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ طلبا پاکستان کے مختلف شہروں، خصوصاً پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک سیکیورٹی افسر نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایران سے پاکستان واپس آنے والے طلبا کی مجموعی تعداد 80 سے زائد ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا گھیرا تنگ،امریکی جنگی طیارے قطر پہنچ گئے،ایئر بیس پر سرگرمیاں تیز
حکام کے مطابق ایران سے واپس آنے والوں میں طلبا کے علاوہ زائرین اور دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جن کی مرحلہ وار واپسی کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید طلبا کی آمد متوقع ہے۔




