نئی دہلی:بھارتی آرمی چیف جنرل اپندر دویدی نے اعتراف کیا ہے کہ آپریشن ’سندور‘ کے دوران پاکستان کو بھارتی افواج کی نقل و حرکت سے متعلق مکمل سیٹلائٹ معلومات حاصل تھیں۔
نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف نے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے، تاہم اسی دوران انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو یہ علم تھا کہ بھارتی فضائیہ کے کون سے طیارے، جنگی جہاز اور زمینی یونٹس کس مقام پر موجود اور متحرک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین کا بھارت کو انتباہ جاری
جنرل اپندر دویدی نے کہاکہ سیٹلائٹ نگرانی کے ذریعے پاکستان کو یہ مکمل آگاہی حاصل تھی کہ بھارتی افواج کے مرکزی یونٹس، فضائی اثاثے اور طیارے کس سمت اور کس مقام پر حرکت کررہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران بھارتی آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان اور چین نے راکٹ فورس قائم کی ہے اور بھارت کے لیے بھی اسی نوعیت کی راکٹ فورس تشکیل دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
جنرل اوپیندر دویدی نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ سرحد پار سے ڈرونز کی مداخلت میں اچانک اضافہ ہوا ہے جسے روکنے کے لیے پاکستان کو براہِ راست پیغام بھیج دیا گیا ہے۔
جنرل اوپیندر دویدی کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں کم از کم آٹھ ڈرونز لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب دیکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اجیت ڈوول کے بیان ’تاریخ کا بدلہ‘ پر بھارت میں شدید بحث، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کا سخت ردعمل
واضح رہے کہ پاکستان نے مئی 2025 کی جنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے رافیل طیاروں سمیت 7 جنگی جہاز گرائے اور دفاعی نظام ایس 400 کو بھی تباہ کیا۔
آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی کے بعد بھارت دفاعی پوزیشن پر چلا گیا جبکہ پاکستان نے جنگی محاذ پر کامیابی کے بعد سفارتی محاذ پر بھی فتح حاصل کی۔




