حویلی کہوٹہ (کشمیر ڈیجیٹل)ضلع حویلی کہوٹہ میں گرلز کالج کی طالبات نے کالج کی منتقلی کے فیصلے کیخلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے مین شاہراہ کو بند کر دیا۔
احتجاج کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی جبکہ مسافروں اور ٹرانسپورٹر حضرات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
احتجاج میں شریک طالبات نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر اپنے ہی حلقے میں عوام کو سہولت دینے کے بجائے تعلیمی اداروں کو ادھر اُدھر منتقل کر کے مسائل پیدا کر رہے ہیں جو عوام اور طالبات کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت کو بڑا دھچکا، خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے کا مشن ناکام، 16 سٹلائٹس تباہ
طالبات کا کہنا تھا کہ کالج کی منتقلی سے نہ صرف ان کی تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں بلکہ ان کی پرائیویسی اور تحفظ کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایسے فیصلے واپس لینے چاہئیں جو طالبات کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
مظاہرین نے واضح کیا کہ حکومت نئے تعلیمی ادارے قائم کرنے کے بجائے موجودہ اداروں کی “اکھاڑ پچھاڑ” میں مصروف ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اگر گرلز کالج کو شفٹ کیا گیا تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔طالبات نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا:“ہماری تعلیم متاثر کر کے ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور تعلیمی بورڈ کا جماعت دہم کے ضمنی امتحان کے رزلٹ کا اعلان
آخر کیوں؟ جب تک کالج کی منتقلی کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا، ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور یہ تحریک اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک یہ فیصلہ منسوخ نہیں کیا جاتا۔
”احتجاج کے باعث مین شاہراہ بند ہونے سے عام شہریوں، مریضوں، طلبہ اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم طالبات اپنے مطالبات پر ڈٹی رہیں۔
انہوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور گرلز کالج کی منتقلی کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے گا۔




