اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سینئر صحافی وتجزیہ نگار، وکالم نگار سہیل احمد وڑائچ نے سینئر صحافی منصور علی خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب خبر دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہی بات ہونے جارہی ہوتی ہے،
بعض اوقات بند دروازوں کے اندر جو بات ہورہی ہوتی ہے وہ بھی ہم تک پہنچ جاتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حلقہ لوئیر نیلم: مسلم لیگ ن امیدوار اسمبلی ٹکٹ کے لیے میدان میں آ گئے
سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ کسی صحافی کوئی القاء تو ہوتا نہیں ہے بلکہ خبر ہمیں سورس سے ہی ملتی ہے ۔ بعض واوقات ایسی خبر اس لئے بھی دی جاتی ہے کہ یہ نہ ہو ۔
صحافی کا کام عوام کو حالات سے باخبر رکھنا ہوتا ہے ۔ صحافی کے لفظوں سے یہ بات اندازہ لگا لینا کہ ونڈر بوائے کا مطلب ہے کہ حکومت جارہی ہے تو اسے حکومت کے جانے اور کسی ونڈر بوائے کےآنا سمجھ نہیں لینا چاہیے ۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا کائونٹر بیانیہ بلڈ کیا جائے گا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف ایک سیاسی جماعت کے صدر رہے اور آج وزیراعظم ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب نے نوجوان نے لاکھوں ڈالر مالیتی کمپنی کا مالک بنادیا
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کو بطور وزیراعظم اپنا سیاسی بیانیہ دینا چاہیے تھا ، عمران خان ہر ہفتے اپنا سیاسی بیانیہ بناتے ، انٹرویوز دیتے ، عوامی جلسوں سے خطاب کرتے تھے لیکن شہبازشریف کو کبھی سیاسی بیانیہ بناتے نہیں دیکھا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلاسودقرضہ،150 سی سی موٹرسائیکل خریدنے کے خواہشمند شہریوں کیلئے بڑی خبر
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ کی بہت ساری کارکردگی کافی بہتر وہاں بہت سارے سوال اٹھتے ہیں کہ ابھی تک فارن انویسٹمنٹ نہیں آئی ، پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں ، انڈسٹری نہیں لگ رہی ، عوام کے پاس روزگار نہیں ہے تو پھر کچھ باتیں سامنے آتی ہیں اور اس پر اداروں کے تحفظات ہیں مگر ایسا نہیں کہ حکومت کے جانے کی کوئی بات ہو۔ ادارے ملک کو ترقی کی طرف گامزن دیکھنا چاہتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کا اہم کردار ہے ۔




