رمضان المبارک میں شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس کے اوقاتِ کار میں تبدیلی

رمضان المبارک 2026 کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں تجارتی اور تفریحی سرگرمیوں کے اوقاتِ کار سے متعلق تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی رمضان المبارک کے دوران شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، فوڈ کورٹس، سینما گھروں اور دیگر تفریحی مراکز کے اوقاتِ کار میں ممکنہ تبدیلیوں اور توسیع پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ شہریوں کو افطار کے بعد خریداری اور تفریح کے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔

تاحال رمضان المبارک 2026 کے لیے شاپنگ مالز اور ریسٹورنٹس کے حتمی اوقاتِ کار کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم متعلقہ ذرائع کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ زیادہ تر تجارتی مراکز گزشتہ برس یعنی رمضان 2025 کے شیڈول پر ہی عمل کریں گے، جس کے تحت دن کے اوقات میں بھی سرگرمیاں جاری رہیں گی جبکہ افطار کے بعد رش میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

گزشتہ برسوں کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ شاپنگ مالز دن بھر کھلے رہیں گے، تاہم اصل گہما گہمی افطار کے بعد شروع ہو گی۔ شہری بڑی تعداد میں خریداری، سیر و تفریح اور کھانے پینے کے لیے مالز کا رخ کریں گے، جس کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کیلئے سودمند وموثر رمضان پیکیج تیار کیا جائے، وزیراعظم شہبازشریف

فوڈ کورٹس اور کیفے دن کے اوقات میں بھی سروس فراہم کرتے رہیں گے، خاص طور پر غیر روزہ دار افراد، بچوں، بزرگوں اور روزے سے مستثنیٰ افراد کے لیے سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اسی طرح شام کے اوقات میں افطار کے بعد فوڈ کورٹس میں رش بڑھنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب ریسٹورنٹس رمضان المبارک کے لیے خصوصی افطار مینیو، رمضان ڈیلز اور مختلف ڈسکاؤنٹس متعارف کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ متعدد ہوٹلز کی جانب سے روایتی پاکستانی اور بین الاقوامی کھانوں پر مشتمل خصوصی افطار اور سحری بوفے کا اہتمام بھی کیا جائے گا، جو شہریوں کے لیے خصوصی کشش کا باعث بنیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک 18 فروری ،عیدالفطرکا چاند 21 مارچ کو نظرآنے کا امکان

انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل متعلقہ شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس، سینما گھروں اور تفریحی مراکز کی آفیشل ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز سے تازہ ترین اوقاتِ کار ضرور چیک کریں، تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top