میرپور (بیورو رپورٹ) کشمیر جرنلسٹ فورم راولپنڈی۔اسلام آباد اور کشمیر ارفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے درمیان فلاحی، سماجی اور میڈیا تعاون پر مبنی ایک تاریخی یادداشتِ تفاہم پر دستخط کر دیئے جس کے تحت کشمیر جرنلسٹ فورم کے تمام ممبران کو باضابطہ طور پر کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کا ایمبسڈر قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ آزاد جموں و کشمیر میں فلاحی خدمات، عوامی آگاہی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میرپور میں منعقد ہوئی، جہاں کشمیر جرنلسٹ فورم کے صدر سردار عرفان سدوزئی اور سینئر صحافی خواجہ کاشف میر کی قیادت میں 25 رکنی وفد نے شرکت کی جبکہ کشمیر ارفن ریلیف ٹرسٹ کی جانب سے چیئرمین چوہدری محمد اختر نے فورم کے ساتھ شفاف، منظم اور دیرپا شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر کشمیر جرنلسٹ فورم راولپنڈی۔اسلام آباد کے صدر سردار عرفان سدوزئی کو تنظیمی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ دی گئی اور اعتماد اور قدردانی کے اظہار کے طور پر چیئرمین KORT چوہدری محمد اختر نے سینئر صحافی خواجہ کاشف میر کو بطور ایمبسڈر خصوصی تحفہ پیش کیا۔۔

قبل ازیں کشمیر جرنلسٹ فورم کے 25 رکنی وفد نے میرپور میں کشمیر ارفن ریلیف ٹرسٹ کے مختلف فلاحی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کیا جن میں یتیم بچوں کے جدید ایجوکیشن کمپلیکس، کفالتِ اطفال کے مراکز اور دیگر فلاحی شعبہ جات شامل تھے جہاں اس وقت تقریباً تین سو کے قریب کمسن بچوں اور بچیوں کی کفالت، تعلیم اور تربیت کا منظم اور شفاف انتظام کیا جا رہا ہے۔۔
وفد نے چوہدری محمد اختر کی قیادت میں KORT کی مثالی فلاحی خدمات، مالی شفافیت اور انتظامی نظم و ضبط کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
دورے کا مرکزی نکتہ کشمیر ارفن ریلیف ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام بارہ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا دو سو پچاس بستروں پر مشتمل اسٹیٹ آف دی آرٹ جنرل ہسپتال رہا جسے آزاد کشمیر کا سب سے بڑا فلاحی ہسپتال قرار دیا جا رہا ہے۔۔
اس موقع پر چیئرمین KORT چوہدری محمد اختر نے صحافیوں کو ہسپتال منصوبے پر مرحلہ وار اور جامع بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ چار برس سے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور یہ ہسپتال غریب اور نادار عوام کیلئے مکمل طور پر مفت علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔۔
ہسپتال میں جدید طبی آلات کے ساتھ مریضوں کے لواحقین کیلئے مسافر خانہ اور طلبہ و طالبات کیلئے علیحدہ ہاسٹل بھی قائم کیا جائے گا۔۔
بعد ازاں صحافیوں کو ہسپتال کی تعمیراتی سائٹ کا دورہ کروایا گیا جہاں جاری کام اور معیار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، چوہدری محمد اختر کے مطابق اس منصوبے کی گراؤنڈ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو مدعو کیا جائے گا جبکہ ہسپتال کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کیلئے فنڈ ریزنگ کی تیاری بھی جاری ہے۔

چیئرمین KORT چوہدری اختر حسین نے آزاد کشمیر کے صحت کے مجموعی نظام پر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ میرپور سمیت مختلف اضلاع میں آبادی کے تناسب سے طبی سہولیات ناکافی ہیں جس کے باعث مریضوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد ریفر کیا جاتا ہے اس صورتحال سے نہ صرف ایمبولینسوں کا کاروبار بڑھ رہا ہے بلکہ غریب عوام شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں
چوہدری اختر نے واضح کیا کہ KORT کا وژن پورے آزاد کشمیر میں پرائمری ہیلتھ پراجیکٹس لانچ کرنا ہے تاکہ ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں پر بوجھ کم ہو اور عوام کو علاج کی سہولت ان کی دہلیز پر میسر آئے۔

ضلع حویلی کے ڈی ایچ کیوہسپتال میں گائنالوجی وارڈ کے قیام کا اعلان
چیئرمین کورٹ چوہدری اختر نے ضلع حویلی کے ڈی ایچ کیوہسپتال میں گائنالوجی وارڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضلع حویلی میں خواتین کو زچکی کے مسائل کا سامنا ہے ۔ ڈی ایچ کیو میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں جس سے ہزاروں خواتین متاثر ہورہی ہیں ۔ اس منصوبے پر جلد کام کریں گے اور علاقے میں خواتین کیلئے ہر قسم کی سہولیات فراہم کریں گے ۔
بعد ازاں وفد کو کشمیر ارفن ریلیف ٹرسٹ کے مرکزی کمپلیکس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا گیا جن میں نومولود بچوں کا کمپلیکس، سپورٹس کمپلیکس، اولڈ ہوم، فاطمہ کمپلیکس اور بچیوں کی پرورش کے مراکز شامل تھے جہاں صحافیوں کو بچوں اور بچیوں کی کفالت، تعلیم، صحت اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ ، توڑ پھوڑ ، حملہ آور گرفتار
کورٹ کی طرف سے سردار وقاص جاوید، جلال الدین مغل اور فواد احمد نے تمام انتظامات بہترین انداز میں یقینی بنوائے، اس موقع پر کشمیر جرنلسٹ فورم کے سیکرٹری جنرل مقصود منتظر ، سیکرٹری فنانس سردار عمران اعظم، نائب صدر سید خالد شاہ گردیزی، جوائنٹ سیکرٹری سردار نثار تبسم ، سینئر ممبران بشیر عثمانی، سینئر صحافی خواجہ کاشف میر، اللہ داد صدیقی (دن نیوز)، لطیف ڈار، سید مقدر شاہ اوصاف، طاہر مسعود ،بلال وانی، جاوید اقبال، لیاقت مغل، چوہدری نوید، احسن حمید راجہ ، سید مظفر حسین بخاری کشمیر ڈیجیٹل اور دیگر صحافی بھی موجود تھے۔۔
دورے کے اختتام پر شرکاء نے اس یادداشتِ تفاہم کو صحافت اور فلاحی شعبے کے درمیان ایک مضبوط، شفاف اور پائیدار شراکت داری قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ انسانی خدمت، سماجی ذمہ داری اور عوامی فلاح کے لیے ایک مؤثر اور دیرپا ماڈل ثابت ہوگا۔
کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے تحت 12 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری 250 بستروں پر مشتمل، اسٹیٹ آف دی آرٹ ،یہ منصوبہ دو مراحل میں 3 سال کی مختصر مدت میں مکمل ہوگا جبکہ فیز ون کی تکمیل کے لیے 14 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، ہسپتال میں تمام غریب مریضوں کا علاج سو فیصد مفت ہوگا اور صحت کارڈ کی بھی سہولت دستیاب ہوگی،منصوبے میں ہسپتال کیساتھ پارکنگ پلازہ اور مریضوں کے لواحقین کے لیے رہائش کا بھی بندوبست کیا جائے گا۔
چوہدری اختر نے بتایا کہ کوٹلی میں آزادکشمیر کا پہلا جدید ترین ، برن سینیٹر،، بھی تکمیل کے قریب ہے جو20 بستروں پر مشتمل ہوگا۔

کشمیر جرنلسٹس فورم کے تمام ممبران نے بانی چیئرمین کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ، چوہدری اختر کی دکھی انسانیت کے لیے خدمات کو سراہا اور انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
صحافیوں نے کہا کہ انہوں نے جو یہاں دیکھا وہ ان کے لیے ناقابل تصور ہے ، چوہدری اختر نے نہ صرف ننھے فرشتوں کو اپنے آغوش میں لیا بلکہ انہیں گھر سے بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،معصوم بچوں سے ملاقات نے ان کا دن یادگار بنادیا۔
صدر کشمیر جرنلسٹس فورم عرفان سدوزئی اور منتخب عہدیداران کی قیادت میں کشمیر جرنلسٹس فورم کے ممبران نےمیرپور آزاد کشمیر کا دورہ کیا جس میں ٹی وی چینلز ، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کی بڑی تعداد شامل تھی ۔
دورے کے دوران ممبران ،کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے سربراہ اوربانی چیئرمین چوہدری اختر صاحب کی دعوت پر KORT پہنچے تو ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین چوہدری اخترحسین نے ادارے کے مقاصد،جار ی اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور تمام شعبوں کا دورہ کروایاگیا۔
صحافیوں کو بتایا گیاکہ کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ کا قیام 8 اکتوبر 2005 کے ایک ماہ بعد نومبر 2005 میں کرائے کی عمارت میں عمل میں لایاگیا اور اب 20 سال بعد 140 کنال سے زائد رقبے پر اس کا اپنا کمپلیکس موجود ہے۔
کمپلیکس میں 500 سے زائد یتیم بچے بچیاں رہائش پذیر ہیں جن کی عمریں ایک ماہ سے لیکر 20 سال تک ہیں، تمام بچوں کو بہترین رہائشی سہولیات کیساتھ عالمی معیار کے تعلیمی ماحول میں پلے گروپ سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم اوران ڈور ، آوٹ ڈور کھیلوں کی بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چوہدری اختر کا کہنا تھا کہ اس وقت ادارے کے درجنوں بچے میڈیکل ، انجنئیرنگ اور آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں ملک کی بہترین یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں

ہمارے طلباء کی ایک بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے بعد کورٹ کے مختلف شعبوں میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہے اور اب KORT کی انتظامیہ میں 60 فیصد ہمارے اپنے اعلی ٰ تعلیم یافتہ بچے شامل ہیں، انہی بچوں نے اس ادارے کو چلانا ہے ۔




