مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل نیوز)وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے 98 فیصد مطالبات پر طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق عملدرآمد کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
وزیراعظم سیکرٹریٹ مظفرآباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کے سیاسی تدبر، عوامی مفاہمت اور جمہوری رویے کا واضح ثبوت ہے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید سمیت کابینہ کے دیگر اراکین بھی موجود تھے ۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی عوامی مسائل کو اولین ترجیح دی اور محض سوا ایک ماہ کے مختصر عرصے میں عوام کا اعتماد بحال کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آزادکشمیر بھر کے دورے کیے اور عوام کے مسائل براہِ راست سنے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ جہاں ماضی میں عوامی احتجاج پر ڈنڈے برسائے جاتے تھے، آج وہاں حکومت پر پھول برسائے جا رہے ہیں، جو عوام کے اعتماد اور اطمینان کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی سے سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کیے، جن کے نتیجے میں بیشتر مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھائے گئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نوجوانوں کو ہنرمند بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے : وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور
وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی تصادم نہیں بلکہ مفاہمت ہے۔ راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اعلان کیا کہ آزادکشمیر میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کا باقاعدہ اجراء کر دیا گیا ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے تعلیمی اصلاحات کے تحت دو نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کی منظوری بھی دے دی ہے، جس سے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے عوامی ایکشن کمیٹی سے طے پانے والے نکات پر تفصیلی پیش رفت رپورٹ پیش کی ۔
انہوں نے بتایا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ کے تحت اب تک 18 نکات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ 16 نکات پر عملی کام جاری ہے اور ان پر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت کو یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ 5 نکات ایسے ہیں جن پر تاحال عملدرآمد ممکن نہیں ہو سکا تاہم حکومت ان پر بھی قابلِ عمل حل تلاش کر رہی ہے ۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ تمام مقدمات واپس لے لیے ہیں جبکہ احتجاجی حالات کے دوران معطل کیے گئے ملازمین کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد ادا کر دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کی مستقل بحالی کے لیے ہر جاں بحق فرد کے ورثاء میں سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کر دی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو معاشی تحفظ دیا جا سکے۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کو اپنا فرض سمجھتی ہے اور آزادکشمیر کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔




