مظفرآباد:وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ اساتذہ کرام کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
موجودہ حکومت میں اساتذہ کرام کو اپنے جائز مطالبات منوانے کیلئے سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑیگی بلکہ حکومت خود اساتذہ کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل حل کریگی۔
سکول ٹیچرز آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بعنوان “استاد: بطور فکری و نظریاتی محافظ” کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل راٹھور نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے ہر حکومت کی اولین ترجیحات ہیں کیونکہ یہی شعبے کسی بھی معاشرے میں برق رفتار ترقی کی ضمانت ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انوارالحق کا انتقامی تبادلوں پر توجہ دلائو نوٹس،سابق دور میں سب سے زیادہ اضافی چارجز دیئے گئے، فیصل راٹھور
جدید دور کے تقاضوں کے پیشِ نظر اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نسلِ نو کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کریں، اساتذہ کی معاشی مشکلات کے خاتمے اور تدریسی عمل کو مؤثر بنانا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ اور قوم کے معمار ہوتے ہیں، اس لیے معاشرے میں استاد کے کردار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسلام میں بھی استاد کا بہت بلند مقام ہے اور اسلام نے استاد کی حرمت کی تلقین کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ کی معاشی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے، تاہم حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ جو استاد دلجمعی اور خلوص سے کام کرتا ہے، عوام بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ انتقامی تبادلوں کو مسترد کیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے، عوام کا شعور اور آگہی بڑھ چکی ہے، اس لیے ہم سب کو خود احتسابی کی ضرورت پر زور دینا ہے۔
ریاست کو درپیش تمام مسائل کو یکمشت حل کرنا آسان نہیں، لیکن اگر عوام کا اعتماد برقرار رہا تو آئندہ پانچ سال میں نمایاں بہتری لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جب انہیں منصب ملا تو ریاست میں بے چینی پائی جا رہی تھی اور سیاسی نظام و گزشتہ حکومت پر عوامی اعتماد میں واضح کمی نظر آ رہی تھی، تاہم الحمدللہ موجودہ حکومت کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے اور یہی اعتماد ہماری اصل طاقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقابلے کا جذبہ ہی انسان کی زندگی میں تبدیلی لاتا ہے، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ خامیاں اور خوبیاں معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہوتی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ معاملات ہمیشہ سڑکوں کے بجائے بات چیت اور اعتماد سازی کے ذریعے حل کیے جائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اساتذہ سے براہِ راست گفتگو ان کی دیرینہ خواہش تھی اور اس موقع پر خود کو اساتذہ کے درمیان موجود پا کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی پالیسی تبدیل، اساتذہ کیلئے پیشہ ورانہ تدریسی لائسنس لازمی قرار
انہوں نے کہا کہ اساتذہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ریاست کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں ، جبکہ حکومت اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھاتی رہے گی۔
موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ فکری اور نظریاتی محاذ پر استاد ہی ریاست کے اصل سفیر ہیں اور قوم کی فکری سمت و نسلِ نو کی تربیت میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر وزیر پی ڈی او چوہدری رشید، سابق سیکرٹری تعلیم رزاق احمد ندیم، صدر ٹیچر آرگنائزیشن سردار تاسف شاہین، مرکزی نائب صدر فائزہ اعجاز راجہ، مرکزی نگران اعلیٰ عامر فردوس اعوان، سید مظہر گیلانی، محمد آصف شاہد، منصور احمد اعوان، سیکرٹری ٹیچر فاؤنڈیشن ثانیہ ممتاز، صائمہ قاسم سمیت دیگر نے شرکت کی۔




