بجلی کی بندش ،طارق آباداندھیرے میں ڈوب گیا؛ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز،سڑکیں بلاک

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)طارق آبادمیں بجلی کی طویل بندش کے باعث علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا،بجلی بندش کیخلاف عوام کا غصہ شدت اختیار کر گیا۔

مسلسل دو روزہ تاریکی نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا جس کے بعد شہریوں نے سڑکوں پر نکل آئے، محکمہ برقیات کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

مظاہرین نے ٹائر جلا کر بائی پاس روڈ مکمل طور پر بلاک کردی جس سے ٹریفک طویل عرصہ معطل ہوکر رہ گئی۔ رات کے اندھیرے میں  علاقے میں شدید کشیدگی کی فضا برقرار ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ طارق آباد میں برسوں سے ایک ہی چھوٹے ٹرانسفارمر پر تین سو سے زائد گھریلو کنکشن ڈال دیے گئے ہیں، جو محکمہ برقیات کی نااہلی اور غفلت کی واضح مثال ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈا، کشمیری عوام کا شدید ردعمل سامنے آگیا

مظاہرین کا کہنا تھا کہ زیادہ لوڈ ہونے کے باعث ٹرانسفارمر بار بار جل جاتا ہے، نتیجتاً پورا علاقہ کئی کئی دن بجلی سے محروم رہتا ہے۔ بارہا شکایات کے باوجود نہ نیا ٹرانسفارمر فراہم کیا گیا، نہ ہی پرانے نظام کو بہتر کرنے کی کوئی کوشش دکھائی گئی۔ “

ہمیں اندھیرے میں دھکیل کر محکمہ صرف ہمیں دھوکہ دیتا رہا۔ بچے، خواتین، مریض سب پریشان ہیں، کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں اور گھروں میں پانی تک دستیاب نہیں رہتا۔ آخر ہم کب تک اس اذیت کو برداشت کریں؟” مظاہرین نے جذباتی انداز میں سوال اٹھایا۔

احتجاجی شہریوں نے بتایا کہ گرمی کے موسم، امتحانات کے دنوں اور معمولی کاموں تک میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرانسفارمر خراب ہونے کے بعد عملہ کئی کئی دن غائب رہتا ہے،

بجلی کی طویل بندش کے باعث عوام کی مشکلات دوگنی ہو گئیںیہ صرف علاقے کی نہیں، عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ حکومت کب جاگے گی؟” ایک بزرگ شہری کا حکومت سے شکوہ ۔

مظاہرین نے حکومتِ آزادکشمیر اور محکمہ برقیات سے فوری طور پر بجلی بحال کرنے، نیا اور مناسب گنجائش والا ٹرانسفارمر لگانے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

شہریوں نے واضح کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج وسیع ہوگا اور بائی پاس روڈ کی بندش کو طویل کیا جائے گا۔

طارق آباد کے عوام کا کہنا ہے کہ اب وہ صرف زبانی تسلیوں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین کریں گے۔ “اندھیری راتیں مزید برداشت نہیں ، ہمیں حق ملے گا، اور ضرور ملے گا۔”

Scroll to Top