پاکستان اور افغانستان کے سعودی عرب کی میزبانی میں مذاکرات نے نتیجہ ختم

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے تازہ ترین امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دونوں ممالک کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا بھارت، افغانستان کٹھ جوڑ سے متعلق بڑا انکشاف

خبررساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والے یہ مذاکرات قطر، ترکیے اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں کا حصہ تھے۔

ان اجلاسوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد پیدا کشیدگی کو کم کرنا تھا۔

رائٹرز کے مطابق دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی اب تک بڑی حد تک برقرار ہے تاہم گزشتہ ماہ استنبول میں ہونے والے فالو اپ مذاکرات میں طویل مدتی معاہدہ طے نہیں ہوسکا تھا۔

دونوں ممالک کے حکام نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حالیہ مذاکرات سعودی عرب کی ایک پیشکش کے تحت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کی اپنے شہریوں کو تاجکستانی سرحدی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت، واقعہ پرافغانستان کا بھی ردعمل آگیا

خیال رہے کہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان تحریری یقین دہانی دیں کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کریں گےتاہم طالبان حکام اس پر تیار نہیں ہیں۔

قبل ازیں استبول میں ہونیوالے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے جبکہ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کے بعد قطر نے پاکستان کی افغانستان میں کارروائی رکوائی تھی۔

Scroll to Top