امریکاکاتمام افغان تارکین وطن کا دوبارہ جائزہ لینے، ملک بدری کا بھی فیصلہ

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے آنے والے تمام تارکین وطن کا بغور دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈا لنے والے کسی بھی شخص کو ملک سے باہر نکال دیا جائیگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا بھارت، افغانستان کٹھ جوڑ سے متعلق بڑا انکشاف

ترجمان کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے تمام فیصلوں اور خصوصی امیگرینٹ ویزوں کا اجرا روک دیا ہے۔ گزشتہ دنوں کے المناک واقعے کے بعد صدر کا بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشن منصوبہ پہلے سے زیادہ اہم ہوچکا ہے۔

صدر ٹرمپ کی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کی مجموعی طور پر صحت بہترین ہے، صدر ٹرمپ کا ایم آر آئی احتیاطی طور پر کیا گیا ہے، ان کا دل درست اور صحت مند حالت میں ہے۔

یاد رہےکہ امریکا نے افغان پاسپورٹ پر سفر کرنے والے تمام افراد کو ویزوں کا اجرا روک دیا ہے جبکہ اسائلم کی تمام درخواستوں سے متعلق فیصلے بھی روک دیے گئے ہیں۔

یہ اقدام گزشتہ ہفتے افغان شہری کی جانب سے نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سامنے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکساس میں ایک اور افغان شہری دہشت گردی کے الزام میں گرفتار

یہ بھی یاد رہے کہ افغان نژاد شخص کے حملے ایک امریکی فوجی ہلاک ہوئی تھی جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے جس کے بعد امریکا نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

افغان ملزم کے کئی رشتہ داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے اور اس حوالے سے امریکی ادارے تحقیقات بھی کررہے ہیں۔

Scroll to Top