بھارتی فورسز کاجموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ، بے بنیاد دعوے بے نقاب

جموں: مقبوضہ کشمیر میں معروف اخبار کشمیر ٹائمز کے دفتر پر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے چھاپے اور اسلحہ برآمدگی کے دعووں نے نہ صرف بھارتی صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ پاکستان میں بھی اظہار رائے کی آزادی، میڈیا دباؤ اور کشمیر سے متعلق بیانیے کے حوالے سے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔

بھارتی پولیس کا دعویٰ ہے کہ کشمیر ٹائمز کے دفتر سے کلاشنکوف کارتوس، پستول راؤنڈز اور 3 گرینیڈ لیورز برآمد ہوئے جبکہ اخبار کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین سمیت ادارے کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں کشمیر سے متعلق آزاد صحافت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور کئی صحافیوں اور میڈیا اداروں کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب، سابق وزیر اعظم انوارالحق کا بیان توڑ مروڑ کر پیش

کشمیر ٹائمز جیسے ایک موثر اخبار کے خلاف کارروائی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت میں کشمیر کی سیاست اور سکیورٹی معاملات پر تنقیدی آوازوں کے لیے گنجائش تنگ کی جا رہی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق اخبار کے چند مواد سے عوامی نظم و نسق متاثر ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر ٹائمزکا دفتر سری نگر کے پریس انکلیو میں بھی موجود تھا جسے اکتوبر 2020 میں مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ نے سیل کر دیا تھا۔

ادھرکشمیر ٹائمز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ چھاپہ بھی ان کو دبانے کی ایک کوشش ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا آیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہمیں اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ ہم اپنا کام ایمانداری سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے دور میں جب تنقیدی آوازیں کم ہوتی جا رہی ہیں، ہم چند آزاد اداروں میں سے ایک ہیں جو اقتدار کے سامنے سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی رپورٹ نے پاکستان کی بھارت کے خلاف فتح کی تصدیق کر دی، وزیراعظم شہباز شریف

ہم پر لگائے گئے الزامات ہمیں دھمکانے اور ہماری ساکھ خراب کرنے کے لیے ہیں لیکن ہم خاموش نہیں ہوں گے۔

کشمیر ٹائمز جموں و کشمیر کا ایک پرانا اور معروف انگریزی روزنامہ ہے جو اپنی رپورٹنگ اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی تحریروں کے لیے جانا جاتا ہے۔

Scroll to Top