راولپنڈی : پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ملاقات کے لیے دیا جانے والا دھرنا ختم کراتے ہوئے ان کی تینوں بہنوں کو حراست میں لے لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا ۔
رات گئے پولیس نے علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو چکری انٹرچینج پر چھوڑ دیا، جس کے بعد تینوں بہنیں وہاں سے موٹروے کے ذریعے لاہور روانہ ہوگئیں ۔
اس سے قبل عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر تقریباً دس گھنٹے تک اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔
پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے انہیں اور متعدد کارکنان کو اپنی تحویل میں لیا ۔
حراست کے دوران گورکھپور ناکے کے قریب نورین نیازی کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ لیڈی پولیس اہلکار نورین نیازی کو زبردستی گھسیٹ رہی تھیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بشریٰ بی بی بانی پی ٹی آئی پر اصل اثر و رسوخ رکھتی تھیں : خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ قانون کی پاسداری کرتے رہے ہیں، لیکن آج ہماری بہنوں کے ساتھ سڑک پر ناروا سلوک کیا گیا جس پر ہمیں خود انہیں بچانا پڑا ۔
واضح رہے کہ اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کے دھرنے کے خلاف پولیس نےآپریشن کرتے ہوئے متعدد افراد کو تحویل میں لے لیا ۔
اس دوران پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیاتھا ۔
علیمہ خان نے پہلے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دینے سے انکار نہیں کیا تھا ، جس کے بعد خواتین پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی اور دھرنے پر موجود کارکنوں کو راستہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ۔
پولیس کی درخواست کے باوجود مذاکرات کامیاب نہ ہوئے اور علیمہ خان نے دھرنا ختم کرنے سے صاف انکار کیا ۔




