مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے ہمراہ آزاد کشمیر کی 20 رکنی کابینہ حلف اٹھائے گی۔ ذرائع کے مطابق میاں عبدالوحید خان سب سے سینئر وزیر ہوں گے اور دیگر اضلاع سے بھی مزید وزرا شامل کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کابینہ کے ارکان کے ساتھ حلف برداری کی تقریب میں موجود ہوں گے۔
میاں عبدالوحید خان سب سے سینئر وزیر کے طور پر کابینہ میں شامل ہوں گے، جبکہ دیگر وزرا مختلف اضلاع کی نمائندگی کریں گے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ہر ضلع سے وزرا کابینہ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ کی حلف برداری آزاد کشمیر میں حکومت کے قیام کا اہم مرحلہ ہے۔
ذرائع کے مطابق وزرا کی حتمی فہرست میں تمام اضلاع سے نمائندگی شامل ہے اور میاں عبدالوحید خان سب سے سینئر وزیر کے طور پر کابینہ میں نمایاں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نومنتخب وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور آج حلف اٹھائیں گے، فریال تالپور مظفرآباد پہنچ گئیں
واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی ہے، جس کے بعد فیصل ممتاز نئے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزاد کشمیر اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔
تحریک عدم اعتماد سردار جاوید ایوب، چوہدری قاسم مجید اور دیگر کے ہمراہ پیش کی گئی، جس میں متبادل قائد ایوان کے طور پر فیصل ممتاز راٹھور کا نام پیش کیا گیا۔ ووٹنگ کے دوران راجا فیصل ممتاز راٹھور کو 36 ووٹ ملے جبکہ مخالفت میں صرف 2 ووٹ ڈالے گئے۔ تحریک کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت یعنی 27 ووٹ درکار تھے۔ چوہدری انوار الحق اپریل 2023ء میں 48 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے مستعفی ہونے کے بجائے تحریک کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سولہویں وزیراعظم ہوں گے اور موجودہ اسمبلی کے چوتھے وزیراعظم ہوں گے۔ ووٹنگ سے قبل شہر میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے۔ نئے وزیراعظم کی حلف برداری کل بروز منگل متوقع ہے، جس میں پیپلز پارٹی پاکستان کی مرکزی قیادت کے شریک ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نومنتخب وزیراعظم فیصل راٹھور کا سیکرٹریز کو اضافی گاڑیاں واپس کرنے کا حکم
نئی حکومت کو دو بڑے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے معاہدوں پر عملدرآمد نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ مسلم لیگ نون کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر عملدرآمد بھی نئی حکومت کے لیے کڑا امتحان ہے۔ کابینہ کو 20 وزراء تک محدود رکھنا بھی نئی حکومت کے لیے آزمائش ہوگی۔ آج کی رائے شماری آزاد کشمیر کی سیاست کا نیا رخ متعین کرے گی۔




