اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) صدر مملکت نے جسٹس امین الدین خان کی بطور چیف جسٹس آئینی عدالت تقرری کی منظوری دے دی۔
جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس ہوں گے۔صدر مملکت نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی۔
خیال رہےکہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے، وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔
جسٹس امین الدین خان نے 30 نومبر کو عہدہ سےریٹائر ہونا تھا۔
خیال رہےکہ 27 ویں آئینی ترمیم کا بل دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔
آرٹیکل 176 میں ترمیم کے تحت موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو ٹرم پوری ہونے تک چیف جسٹس پاکستان کہا جائےگا۔
آرٹیکل 255 شق دو میں ترمیم کی گئی ہے جو کہ موجودٹرم کے بعد چیف جسٹس پاکستان کی تعیناتی سے متعلق ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:حکومت وائس چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر نہیں کررہی،ذرائع
چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔
حلف برداری کی تقریب کل صبح 10 بجے ایوانِ صدر میں منعقد ہوگی، جہاں صدر مملکت نئے چیف جسٹس سے حلف لیں گے۔
چیف جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے جسٹس امین الدین خان کے اعزاز میں کل عشائیہ رکھ لیا، جس میں سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جسٹس امین الدین سپریم کورٹ آئینی بینچ کے سربراہ ہے، جو رواں ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔
جسٹس امین الدین خان 30 نومبر کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہو رہے ہیں تاہم اب آئینی عدالت کے چیف جسٹس بننے کی صورت میں ان کے عہدے کی مدت میں اضافہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی جگہ آئینی عدالت قائم ہوگی جب کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا بل دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔




