لندن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈاکو مینٹری میں ایڈیٹنگ تنازع پر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور سی ای او ڈیبورا ٹرنس نے استعفیٰ دیدیا۔
بی بی سی پر الزامات ہیں کہ وہ اپنی رپورٹنگ میں سیاسی غیر جانبداری برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
دستاویز ی فلم میں 6 جنوری 2021 کو ٹرمپ کی تقریر کے مختلف حصوں کو اس انداز میں جوڑا گیا کہ یوں لگا جیسے وہ اپنے حامیوں سے کہہ رہے ہوں کہ وہ ان کے ساتھ کیپٹل ہل کی جانب مارچ کریں اور ’شدید مزاحمت‘ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بی بی سی نے پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری سنسنی خیز فرنچائز لیگ قرار دے دیا
ایڈیٹ شدہ پرو گرام گزشتہ سال امریکی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل نشر کیا گیا تھا۔
دی ٹیلی گراف پر بی بی سی کی لیک اندرونی رپورٹ کے مطابق بی بی سی نے غزہ جنگ کی رپورٹنگ میں اسرائیل مخالف تعصب کا مظاہرہ کیا تھا۔
اسرائیل حماس جنگ کوریج ،ٹرانس ایشوز اور ٹرمپ تقریر ایڈیٹنگ تنازع پر بی بی سی کی جانب سے معافی مانگنے کا امکان ہے۔ وائٹ ہاؤس براڈکاسٹر کو پروپیگنڈا مشین قرار دے چکا ہے۔
بی بی سی ڈائریکٹر جنرل کے استعفے کے بعد ٹرمپ نے دی ٹیلی گراف کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈنمارک نے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگادی
ڈیوی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مکمل طور پر میرا فیصلہ ہے، اور میں اپنے پورے دور میں، بشمول حالیہ دنوں کے دوران، چیئرمین اور بورڈ کی غیر متزلزل اور متفقہ حمایت کے لیے بہت شکر گزار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں اس مشکل وقت میں کئی سالوں سے اس کردار کو سنبھالنے کے انتہائی شدید ذاتی اور پیشہ ورانہ تقاضوں پر غور کر رہا ہوں، اس حقیقت کے ساتھ کہ میں ایک جانشین کو وقت دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ چارٹر کے ان منصوبوں کی تشکیل میں مدد کر سکیں جو وہ فراہم کریں گے۔
ڈیوی اگلے چند مہینوں تک برقرار رہیں گے جب تک کہ متبادل نہ مل جائے۔صورتحال سے واقف ایک شخص نے کہا کہ ڈیوی کے فیصلے نے بی بی سی بورڈ کو اس اقدام سے دنگ کر دیا ہے۔




