اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے مسلسل عدم پیشی پر علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداددہشتگردی عدالت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں و دیگر کے خلاف 4 اکتوبر احتجاج کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کی گزشتہ کئی ہفتوں سے عدالت بلانے کے باجود عدم حاضری پر گرفتاری کا حکم دیا
انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مسلسل عدم پیشی پر علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدر کے پاس طاقت کے استعمال کا کوئی اختیار نہیں،امریکی عدالت
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 4 اکتوبر احتجاج کیس میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے۔
انسداددہشتگردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں و دیگر کے خلاف 4 اکتوبر احتجاج کیس کی سماعت ہوئی، عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
علیمہ خان اور عظمیٰ خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی۔
پس منظر
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے 24 نومبر 2024 کو بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے۔
تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔
احتجاج کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور و دیگر پارٹی رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔




