واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرے شروع ہو گئے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں، واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے ’’ٹرمپ مسٹ گو ناؤ‘‘ کے عنوان سے احتجاجی ریلی نکالی۔
مظاہرین نے کیپٹل ہل تک مارچ کیا، اور ٹرمپ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی، مظاہرین نے کہا کہ ٹرمپ کے خلاف سول نافرمانی تحریک چلانے کی ضرورت ہے، جب تک ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹایا نہیں جاتا وہ متحرک رہیں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں بدھ کے روز ہونے والا مظاہرہ فاشزم کے خلاف منعقد ہوا تھا، جو کئی ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر منصوبہ بند کیا گیا تھا،
تاہم اس مظاہرے میں نئی جوش و حرارت اس وقت پیدا ہوئی جب منگل کی شب ملک بھر میں ہونے والے اہم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابیوں نے احتجاجی شرکا کو توانائی بخشی۔
ہزاروں افراد نعرے لگاتے رہے کہ ’ٹرمپ کو اب جانا ہوگا!‘ یہ منگل کے انتخابات کے بعد ہونے والا پہلا بڑا اینٹی ٹرمپ مظاہرہ تھا۔
ان انتخابات میں ڈیموکریٹس نے پورے ملک میں شان دار کامیابیاں حاصل کیں، جن میں ورجینیا اور نیو جرسی کی گورنری، نیویارک سٹی کی میئرشپ، اور کیلیفورنیا میں انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق ایک ایسا ریفرنڈم شامل تھا جو ڈیموکریٹس کے حق میں تھا۔
ان کامیابیوں نے یہ ظاہر کیا کہ ملک کی سیاسی فضا کا رخ بدل رہا ہے، جوش سے بھرپور مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی جدوجہد اب سیاسی سطح پر ثمر لا رہی ہے
وہ جدوجہد جس کا مقصد صدر کے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور جمہوری اقدار کے زوال کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اقتدار ہماری منزل نہیں بلکہ آزادی اور ریاست کی بحالی ہمارا مشن ہے، راجہ فاروق حیدر




