مظفرآباد: آزاد کشمیر میں سیاسی صورتحال کے حوالے سے مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے اہم فیصلے کر لیے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق موجودہ آزاد کشمیر سیٹ اپ کی نااہلی کی وجہ سے انتظامی گورننس اور ترقی کے معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام کی خوشحالی کے لیے فوری تبدیلی ضروری ہے۔
وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور انجینئر امیر مقام نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دے گی، لیکن حکومت سازی میں حصہ نہیں لے گی۔ پارٹی اپوزیشن میں رہتے ہوئے آزاد کشمیر کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرے گی۔
احسن اقبال نے کہا، “موجودہ آزاد کشمیر سیٹ اپ میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ عوام کی خوشحالی اور ترقی کے مسائل حل ہو سکیں۔” انجینئر امیر مقام نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، بلکہ اپوزیشن میں رہ کر عوام کے مسائل پر دھیان دے گی۔
پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بہتر گورننس کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و گورننس بحران کے خاتمے اور عوام کی خوشحالی کے لیے تبدیلی ناگزیر ہے۔ نئی حکومت عام انتخابات کرائے گی تاکہ عوام کو حقیقی نمائندگی مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں:استنبول مذاکرات ناکام، افغان وفد کی ہٹ دھرمی نے پیش رفت روکی
مسلم لیگ ن نے اپنے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا آزاد کشمیر کے ساتھ تعلق مضبوط اور مستحکم ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے ریکارڈ قائم کیا اور آج بھی یہ تعلق آہنی فولاد کی طرح مضبوط ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں سیاسی اور ترقیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپوزیشن کا کردار انتہائی اہم ہے۔ مسلم لیگ ن عوام کے مفاد میں بھرپور سیاسی دباؤ ڈالے گی تاکہ بہتر گورننس ممکن ہو سکے۔
مسلم لیگ ن نے واضح کیا کہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہوگی، بلکہ عوام کی ترجمانی اور ترقیاتی امور کی نگرانی کے لیے سرگرم رہے گی۔ اس فیصلے کے ذریعے پارٹی نے آزاد کشمیر میں شفاف اور مضبوط سیاسی عمل کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔




