اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) ملک بھر میں بجلی صارفین پرمالی بوجھ ڈالنے کی تیاریاں، بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان جس سے بجلی کے صارفین پر 8 ارب 1 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق سی پی پی اے نے بجلی کی قیمت میں 36پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کردی ۔
بجلی مہنگی کرنے کی درخواست میں کیپسٹی پیمنٹس، آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات اور بجلی لائن لاسز شامل کیے گئے ہیں۔
نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) 6 نومبر کو بجلی کمپنیوں کی جانب سے دی گئی درخواست پر سماعت کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
یاد رہے کہ بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب کہ عالمی بینک نے کہا تھا کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کو 50 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچادیا۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مہنگائی 1974کے بعد سب سے زیادہ رہی، اس رپورٹ میں بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافے کو مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا تھا۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں شہری علاقوں میں توانائی کی مہنگائی 50 فیصد سے بڑھ گئی، بجلی اورگیس کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت میں کافی اضافہ ہوا، مالی سال کی پہلی ششماہی میں شہری علاقوں میں توانائی کی افراط زر 50.6 فیصد رہی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں شہری علاقوں میں توانائی کی افراط زر 40.6 فیصد تھی۔
اس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلی ششماہی میں اوسط مہنگائی 28.8 فیصد رہی، گزشتہ سال اسی عرصے میں پاکستان میں اوسط مہنگائی 25 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر میں استحکام، فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے باوجود مہنگائی بڑھی، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پردباؤ میں کمی کے باوجود بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت نے پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا گرین سگنل دے دیا




