مظفرآبادوراولپنڈی (کشمیر ڈیجیٹل)آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ کشمیری قوم نے اپنی آزادی کیلئے جو قربانیاں دی ہیں، دنیا کی تاریخ اُن کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
تحریکِ آزادی کشمیر صرف ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے ضمیر کا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشتگردی کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کیلئے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجاہد منزل راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اب بین الاقوامی ضمیر کا امتحان بن چکی ہے۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کوئی زمین کا نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہاآزادکشمیر کا قیام کسی انتظامی علاقے کے طور پر نہیں بلکہ تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے طور پر ہوا تھا۔ ہماری ہر پالیسی، ہر عمل، اور ہر جدوجہد کا مرکز مقبوضہ کشمیر کے عوام ہیں۔
سردار عتیق نے کہ مسلم کانفرنس ریاست کی وحدت، تشخص اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے اور تحریکِ آزادی کشمیر کا تسلسل برقرار رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق چھین کر ایک کھلی جیل قائم کر رکھی ہے۔
بھارت کی فاشسٹ پالیسیوں نے کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ بنا دیا ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ بے حسی ہے۔
اگر کشمیریوں کو ان کا حق نہ ملا تو خطہ سنگین جنگی تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔جن طاقتوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر دستخط کیے، وہ ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتیں۔
سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ کشمیری نوجوان دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں سے ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں، تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی،معاشی خود کفالت کے مواقع بڑھانا ریاستی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔کشمیریوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت لاکھ کوشش کرے، کشمیر کی تحریک آزادی کو نہ روک سکا ہے، نہ روک سکے گا۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے اور بہت جلد وہ دن طلوع ہو کر رہے گا جب سری نگر میں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہوگا۔




