(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو ایک بڑا جھٹکا لگاہے، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لیگ کی مقبول ٹیم ملتان سلطانز کو معاہدے کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے فرنچائز کو باضابطہ طور پر نوٹس جاری کیا ہے۔ تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد بورڈ نے معطلی کا نوٹس ارسال کیا، جس میں معاہدے کی منسوخی کی تنبیہ بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنچائز کے مالک علی ترین کی جانب سے پی سی بی اور پی ایس ایل انتظامیہ کے خلاف بار بار انٹرویوز دینا معطلی کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔ ان بیانات سے پی ایس ایل کی ساکھ کو نقصان پہنچا، جس پر پی سی بی نے سخت نوٹس لیا۔
پی سی بی کے ذرائع کے مطابق معاملے پر مزید قانونی کارروائی بھی متوقع ہے۔ اس پیشرفت کے بعد پی ایس ایل کے آئندہ ایڈیشن کے لیے ملتان سلطانز کے مستقبل پر سوالیہ نشان اٹھ گیا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کی مجموعی طور پر چھ ٹیمیں ہیں ، اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز، لاہور قلندرز، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز۔
ملتان سلطانز نے پی ایس ایل کے پچھلے سیزنز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ٹیم 2021 میں پی ایس ایل چیمپئن بنی، جب اس نے پشاور زلمی کو فائنل میں شکست دی۔ 2022 اور 2023 میں بھی ملتان سلطانز فائنل تک پہنچی، مگر لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کھائی۔ مسلسل تین سال فائنل میں پہنچنے والی یہ واحد فرنچائز رہی، جس سے اس کی مسلسل کارکردگی اور ٹیم اسٹرکچر کی مضبوطی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیم کے کپتان محمد رضوان کی قیادت میں ملتان سلطانز نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں کئی ریکارڈ قائم کیے۔ رضوان پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ ٹیم میں خوشدل شاہ، عباس آفریدی اور عثمان خان جیسے کھلاڑیوں نے بھی شاندار کارکردگی دکھا کر اسے ایک مستحکم اور خطرناک ٹیم کے طور پر منوایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیموں کا اعلان کر دیا
ملتان سلطانز کی اس معطلی کے بعد پی ایس ایل اور شائقین کرکٹ دونوں پر اس فیصلے کے گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔




