اسلام آباد میں نان اور روٹی کی قیمت کے تعین سے متعلق مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ اسلام آباد انتظامیہ اور نانبائی ایسوسی ایشن کے درمیان قیمتوں کے تعین پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے بعد معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ ہفتے تک نانبائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے مذاکرات کریں اور مسئلے کا حل نکالیں۔ عدالت نے نانبائی ایسوسی ایشن کو ہراساں کرنے سے روکنے کے حکم میں بھی آئندہ ہفتے تک توسیع کر دی۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے نانبائی ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی سے استفسار کیا کہ کیا آج ہڑتال ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ اسلام آباد میں نہیں، لیکن پنجاب میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں نانبائیوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔
بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں جب نانبائی ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات پیش کیے تو انتظامیہ اجلاس سے اٹھ کر چلی گئی، جس کے باعث بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔ عدالت نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ کو ہدایت دی کہ وہ نانبائی ایسوسی ایشن سے ملاقات کریں اور قیمتوں کے تعین کے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی، جبکہ عدالت نے یہ بھی کہا کہ نانبائی ایسوسی ایشن کو کسی قسم کی پریشانی یا ہراسانی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فریقین کو باہمی اتفاق رائے سے ایسا حل نکالنا ہوگا جو عوام اور نانبائیوں دونوں کے مفاد میں ہو۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے محکمہ جنگلات کا اہم اقدام: رینج آفیسر کامران خالق معطل




