خاتون ایم این اے بھی آن لائن فراڈ کا شکار، واٹس ایپ ہیک کرکے 15لاکھ منگوالئے گئے

آن لائن یا واٹس ایپ کے ذریعے فراڈ کرنے والے گروہ نے اپنے پنجے اس طرح گاڑ ھ لئے ہیں کہ اب اراکین قومی اسمبلی بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔

ایک ایسا ہی واقعہ ایم کیو ایم (پاکستان) کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی نکہت شکیل کے ساتھ پیش آیا اور نوسربازوں نے اُن کے عزیزوں، رشتے داروں یا رابطہ کاروں سے تقریبا 15 لاکھ روپے بٹور لئے۔

ڈاکٹر نکہت شکیل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور، صحت اور کشمیر کی رکن ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے انہیں مختلف نمبروں سے تواتر کے ساتھ کالز موصول ہوئیں جس پر انہوں نے پہلے تو فون رکھ دیا۔

نکہت شکیل کے مطابق کالر نے اپنا تعارف پی ایم ڈی سے کروایا اور بتایا کہ آپ کے کچھ ضروری ڈاکومینٹس موصول ہوئے جنہیں آپ تک پہنچانا ضروری ہے، اسی کے ساتھ اُس نے موبائل پر بھیجا گیا کوڈ مانگا، جس پر میں سمجھی کہ پیر کو اسلام آباد میں صحت کمیٹی کی میٹنگ سے متعلق دستاویزات ہوں گی۔

کالز مسلسل آنے کی وجہ سے میرے شوہر بھی پریشان ہوئے اور پھر میں نے نیند کی حالت میں انہیں غلطی سے کوڈ بھیج دیا جس کے بعد نوسربازوں نے واٹس ایپ ہیک کر کے کئی نمبرز پر رابطے کر کے پیسے منگوائے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل لوٹ مار؛ 9 ارب ڈالر کا نقصان،مالیاتی فراڈ معیشت کیلئے سنگین خطرہ بن چکا،عالمی رپورٹ

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ نوسربازوں نے میرے رابطے میں رہنے والے نمبروں کو ایسے پیغامات بھیجے جس کی وجہ سے انہوں نے بھی تصدیق کئے بغیر پیسے بھیجنا شروع کردئیے جبکہ کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے تصدیق کی اور فراڈ کا شکار ہونے سے بچ گئے۔

ڈاکٹر نکہت شکیل کے مطابق ہیکرز نے جن نمبرز پر رابطے کیے اُن کو دو آن لائن موبائل والٹ اور بینک اکاؤنٹ دئیے گئے، جن میں سے دو بینک اکاؤنٹس اکاؤنٹ تھے اور دو مختلف ناموں کے موبائل نمبر تھے جن پر پیسے ٹرانسفر ہوئے۔

میں نے بینک سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر تعاون سے انکار کیا کہ آپ کا اکاؤنٹ ہمارے پاس موجود نہیں جس کی بنیاد پر آپ کو کوئی معلومات دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے ۔

نکہت شکیل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ سے متعلق آن لائن ایپلی کیشن جمع کرائی اور رابطہ کیا تو انہیں تحریری درخواست کے ساتھ کراچی کے دفتر آنے کی ہدایت کی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان کی متعلقہ اتھارٹیز بالخصوص پی ٹی اے کی جانب سے متعدد بار عوامی آگاہی کیلئے پیغامات جاری کیے جاچکے ہیں جس میں شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے خفیہ ہندسوں کا کوڈ یا غیر ضروری لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں۔

رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں امید دلائی گئی ہے کہ جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاہم نکہت شکیل کا کہنا ہے کہ 48 گھنٹے ہونے کو ہیں اور کارروائی نہیں ہوئی، اس کے علاوہ وہ اس بات پر بہت زیادہ افسردہ ہیں کہ اس معاملے کی وجہ سے لوگوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

Scroll to Top