(کشمیر ڈیجیٹل) عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کے نرخوں میں کمی کے اثرات پاکستان میں بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ معاشی غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث رواں ہفتے کے آغاز سے ہی ملکی مارکیٹ میں سونا اور چاندی مسلسل سستے ہو رہے ہیں، جس سے جیولری مارکیٹ میں نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔
جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونا 1400 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 44 ہزار 900 روپے پر آگیا، جبکہ فی گرام سونے کی قیمت 1200 روپے گھٹ کر 3 لاکھ 81 ہزار 430 روپے ہوگئی۔ اسی طرح مقامی مارکیٹ میں چاندی کی فی تولہ قیمت 12 روپے کم ہو کر 5261 روپے تک پہنچ گئی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی مندی کا رجحان برقرار ہے جہاں فی اونس سونا 17 ڈالر کم ہوکر 4235 ڈالر پر آگیا۔ یاد رہے کہ 18 اکتوبر کو بھی پاکستان میں فی تولہ سونا 10 ہزار 600 روپے تک سستا ہوگیا تھا، جو رواں سال کی سب سے بڑی کمی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی ممکن ہے، تاہم ڈالر کے ریٹ، بین الاقوامی مارکیٹ میں طلب و رسد اور عالمی حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ عوامل مستقبل میں قیمتوں کے رجحان کا تعین کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان چاند پر روبوٹ بھیجنے کے مشن پر سرگرم، 2028 میں لانچ کرنے کا امکان
دنیا بھر میں سونے کے ذخائر کے لحاظ سے امریکا بدستور سرفہرست ہے، جبکہ ایشیا میں چین سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اور ایشیا میں دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان اس فہرست میں 49ویں نمبر پر ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے 2024ء میں مجموعی طور پر 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدا، جو پچھلی دہائی کی سالانہ اوسط خریداری کے تقریباً دگنا کے برابر ہے۔



