اے ٹی ایم میں رقم پھنس گئی؟ چند سادہ اقدامات کے ذریعے نقصان سے بچا جا سکتا ہے

(کشمیر ڈیجیٹل) اے ٹی ایم کے بڑھتے ہوئے استعمال نے عوام کی زندگی کو خاصا آسان بنا دیا ہے، مگر کبھی کبھار یہی سہولت پریشانی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ اکثر ایسا اس وقت ہوتا ہے جب صارف رقم نکالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن رقم مشین میں پھنس جاتی ہے یا اکاؤنٹ سے منہا تو ہو جاتی ہے مگر ہاتھ نہیں آتی۔ ایسی صورتحال میں زیادہ تر لوگ گھبرا جاتے ہیں، حالانکہ چند سادہ اور احتیاطی اقدامات اپنا کر اس نقصان سے باآسانی بچا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اے ٹی ایم سے رقم نکلنے کے دوران کسی تکنیکی خرابی یا نیٹ ورک فیل ہونے کی وجہ سے کیش مشین میں پھنس جائے تو سب سے پہلے چند منٹ انتظار کرنا چاہیے۔ عموماً یہ عارضی مسئلہ ہوتا ہے اور سسٹم درست ہونے پر رقم خود بخود نکل آتی ہے۔ اس صورتحال میں 10 سے 15 منٹ کا انتظار فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر اس مدت میں رقم نہ نکلے اور اکاؤنٹ سے کٹوتی ظاہر ہو جائے تو صارف کو فوراً اے ٹی ایم کی ٹرانزیکشن سلپ محفوظ کرنی چاہیے۔ یہ سلپ شکایت درج کرانے کے لیے بنیادی ثبوت کا کام دیتی ہے۔ اس کے بعد متعلقہ بینک کے کسٹمر کیئر سینٹر پر رابطہ کریں یا قریبی برانچ میں جا کر باقاعدہ شکایت درج کرائیں۔

بینک انتظامیہ کے مطابق عام طور پر 24 گھنٹوں کے اندر رقم خود بخود صارف کے اکاؤنٹ میں واپس آ جاتی ہے۔ تاہم اگر ایسا نہ ہو تو تحریری درخواست کے ذریعے شکایت درج کرائی جائے۔ بینک عموماً اس معاملے کی تکنیکی جانچ پڑتال کے بعد 7 دن کے اندر رقم واپس کر دیتا ہے۔

بینکنگ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ اے ٹی ایم استعمال کرتے وقت ہمیشہ مشین کے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔ اگر مشین کے اسکرین پر کوئی غیر معمولی ہدایت یا مشکوک علامت ظاہر ہو تو لین دین سے گریز کریں۔ بہتر ہے کہ کوشش ہمیشہ بینک برانچ کے اندر نصب اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی کی جائے تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں فوری مدد حاصل ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پہلا ہائپراسپیکٹرل سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیا گیا

یہ چند سادہ مگر ضروری اقدامات نہ صرف آپ کو مالی نقصان سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ اے ٹی ایم کے محفوظ استعمال کے حوالے سے اعتماد میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

Scroll to Top