جگر کو چربی سے بچانے کے لیے اس چیز سے مکمل پرہیز کریں

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) صحت مند زندگی گزارنے کے لیے متوازن خوراک اور باقاعدہ ورزش بنیادی اصول ہیں، لیکن ایک عادت ایسی ہے جو اگر نہ بدلی جائے تو جگر کی صحت پر خطرناک اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بازار میں دستیاب ڈبہ بند جوس اور سافٹ ڈرنکس جو بظاہر تازگی اور توانائی کا تاثر دیتے ہیں، درحقیقت جگر کو چربی چڑھانے کا ایک بڑا سبب بن سکتے ہیں۔ چین کی Soochow یونیورسٹی میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف ایک ڈائٹ یا میٹھی سافٹ ڈرنک پینے سے جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ 50 سے 60 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان مشروبات میں موجود چینی یا مصنوعی مٹھاس جسم میں انسولین اور بلڈ شوگر کی سطح بڑھا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں جگر میں چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ماہرین نے دس سال تک ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ جو لوگ سافٹ ڈرنکس کے بجائے پانی پیتے ہیں، ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈائٹ ڈرنکس کو اکثر صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ بھی جگر کے امراض میں اضافہ کرتی ہیں اور بعض اوقات موت کے خطرے کو بھی بڑھا دیتی ہیں۔

جگر کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ماہرین نے چند قدرتی غذائیں تجویز کی ہیں جو نہ صرف جگر میں چربی جمع ہونے سے بچاتی ہیں بلکہ جسم کے مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔

جگر کی صحت کے لیے مفید غذائیں:

کافی: روزانہ ایک کپ کافی جگر کے انزائمز کو متوازن رکھنے اور چربی جمع ہونے سے روکنے میں مددگار ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں: پالک اور دوسری ہری سبزیاں جگر میں چربی جمع ہونے کے عمل کو کم کرتی ہیں۔

دالیں اور سویابین: دال، چنے اور سویابین نہ صرف پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں بلکہ جگر میں چربی کے امکانات کو کم کرتے ہیں۔

مچھلی: سالمون، سارڈین اور ٹونا جیسی مچھلیاں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہوتی ہیں جو سوزش کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اوٹس (جو): فائبر سے بھرپور اوٹس خون میں شوگر اور چربی کی سطح کم کرنے میں معاون ہیں۔

میوے: بادام، اخروٹ اور دیگر نٹس جگر میں سوزش اور انسولین کی مزاحمت کو کم کرتے ہیں۔

ہلدی: اس میں موجود کرکومین جگر کے انزائمز کو بہتر کرتا اور نقصان سے بچاتا ہے۔

سورج مکھی کے بیج: وٹامن ای سے بھرپور یہ بیج قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر جگر کی حفاظت کرتے ہیں۔

صحت مند چکنائیاں: زیتون کا تیل، ایووکاڈو اور مچھلیوں کا تیل جگر کے لیے مفید ہیں۔

لہسن: جسم سے فاضل چربی ختم کرتا اور جگر کے انزائمز کو درست رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جگر کی بیماری سے بچاؤ کے لیے چینی، نمک، سفید آٹا، فرائی اشیاء، سافٹ ڈرنکس اور ڈبہ بند جوس سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ روک دی گئی،کنٹینرز کی قطاریں لگ گئیں

ایک متوازن غذا جس میں فائبر، قدرتی پروٹین، اور غیر سیر شدہ چکنائیاں شامل ہوں، جگر کی صحت کو بہتر بنانے، بیماری کے خطرات کو کم کرنے اور وزن متوازن رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔

Scroll to Top