اسلام آباد: پاکستان کا کہنا ہےکہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پریقین رکھتا ہے مگر اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرےگا، مزید کسی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور دوٹوک جواب دیا جائےگا۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان کو افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی بلاجواز جارحیت پرگہری تشویش ہے، افغان سرحد پر طالبان کی جانب سے حملے خطے کے امن واستحکام کے منافی ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت موثرجوابی کارروائی کرکے دشمن کوبھاری نقصان پہنچایا، جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے، اسلحہ اور سازوسامان تباہ کئے گئے،کارروائی کے دوران شہریوں کے تحفظ اورغیرفوجی نقصانات سے بچاؤ کے تمام اقدامات کئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا افغانستان کے 21ٹھکانوں پر قبضہ، دہشتگردکیمپ تباہ کر دئیے : آئی ایس پی آر
ترجمان کا کہنا ہےکہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری پریقین رکھتا ہے مگر اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرےگا، مزید کسی اشتعال انگیزی کا بھرپور اور دوٹوک جواب دیا جائےگا۔
ترجمان دفترخارجہ نے بھارت میں موجود افغان نگران وزیرخارجہ کے بے بنیاد بیانات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت دہشتگرد عناصرکی موجودگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی آزادانہ سرگرمیوں کا ثبوت ہیں۔ دہشتگردی کےخلاف جنگ مشترکہ ذمہ داری ہے، طالبان حکومت وعدے پورے کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نےکہا کہ پاکستان نے بارہا افغان سرزمین سے سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان پر تشویش ظاہرکی، افغان حکومت ان دہشت گرد عناصرکے خلاف ٹھوس اورقابل تصدیق اقدامات کرے، طالبان حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور دہشت گردی کے خاتمے میں تعمیری کردار ادا کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں تک چار ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، پاکستان افغان شہریوں کی موجودگی کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق منظم کرےگا، پاکستان ایک پرامن، مستحکم، دوستانہ اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور افغان عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کے قیام کی امید رکھتا ہے۔




