حکومت نے ماحول دوست الیکٹرک وہیکل اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سرکلر جاری کر دیا ہے۔
سرکلر کے مطابق حکومت ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور 3 ہزار 170 الیکٹرک رکشے آسان قرضوں کے ذریعے فراہم کرے گی۔ اسکیم کے پہلے مرحلے میں 40 ہزار الیکٹرک بائیکس اور ایک ہزار الیکٹرک رکشے دیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں 76 ہزار موٹر سائیکلیں اور 2 ہزار 171 رکشے فراہم کیے جائیں گے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق الیکٹرک موٹر سائیکل پر قرض کی حد 2 لاکھ روپے اور سبسڈی 50 ہزار روپے ہوگی، جبکہ الیکٹرک رکشے پر قرض کی حد 8 لاکھ 80 ہزار روپے اور سبسڈی 2 لاکھ روپے ہوگی۔ مشترکہ مالیاتی اسکیم کے تحت خریدار کو 20 فیصد ڈاؤن پیمنٹ ادا کرنا ہوگی اور قرض پر کوئی سود نہیں لگے گا۔
یاد رہے کہ حکومت نے حال ہی میں کم آمدن والے شہریوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس اسکیم بھی متعارف کرائی تھی جس میں 20 سے 35 لاکھ روپے کے قرض 20 سال کی مدت کے لیے فراہم کیے جائیں گے اور 10 سال تک سبسڈی دی جائے گی۔ قرض تمام بینکوں، مائیکرو فنانس اداروں اور ایچ بی ایف سی کے ذریعے دستیاب ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کا آج سےآغاز، افتتاحی میچ میں بھارت اور سری لنکا مدمقابل
سٹیٹ بینک کے مطابق بینک قرض کی پرائسنگ کی بور پلس 3 فیصد شرح سود پر کریں گے، صارفین کو 20 لاکھ روپے کے قرض پر 5 فیصد اور 35 لاکھ روپے کے قرض پر 8 فیصد شرح سود ادا کرنا ہوگی۔ بینک کسی قسم کی پروسیسنگ چارجز وصول نہیں کریں گے اور پہلی دفعہ گھر خریدنے والے قرض کے لیے اہل ہوں گے۔




